کی انکاری ہی رہی ہیں، اور اگر گمراہ عوام کی تاریخ پر ایک نظر ڈالی جائے تو ان کی دین سے بیگانگی، قساوت قلبی اور اخلاقی بگاڑ کا سب سے بڑا سبب یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایمان بالآخرۃ کے اصول کو فراموش کر چکے تھے اور اس بات کے قائل نہیں رہے تھے کہ ان کی بداعمالیوں کا محاسبہ ایک دن اللہ کے ہاں ہونے والا ہے، بالکل یہی حال قوم نمرود کا تھا، اسی لئے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اللہ سے مطالبہ کیا کہ مجھے دکھائیں کہ آپ مردوں کو کیسے زندہ کرتے ہیں تاکہ عین الیقین بھی ہو جائے اور قوم بھی مرنے کے بعد جی اٹھنے اور حساب و کتاب ہونے پر ایمان لا سکے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ ۖ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي ۖ قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا ۚ وَاعْلَمْ أَنَّ اللّٰهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ {260} ) (سورۃ البقرہ: 260)
یعنی: ''سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے پروردگار! مجھے دکھا تو سہی کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے؟ [1] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تم ایمان نہیں لائے؟ کہا: کیوں نہیں، لیکن تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے، اللہ نے فرمایا: چار پرندے لو، [2] ان کے ٹکڑے کر ڈالو، پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو، پھر انہیں بلاؤ، وہ آپ کی طرف دوڑتے ہوئے آ جائیں گے اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ غالب حکمتوں والا ہے۔''
[2] ان پرندوں کی تعین کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، صحیح بات یہ ہے کہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نامزد نہیں کیا لہٰذا تعین کرنے کی ضرورت نہیں، کوئی چار پرندے تھے۔ (تفسیر صلاح الدین یوسف: مذکورہ آیات)