فهرس الكتاب

الصفحة 65 من 253

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا للّٰهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ {120} شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ {121} وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ {122} ) (سورۃ النحل: 120 تا 122)

یعنی: ''بلاشبہ ابراہیم (علیہ السلام) پیشوا تھے، اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور یکطرفہ مخلص تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں اپنا برگزیدہ بنا لیا اور انہیں راہِ راست سمجھا دی اور اسے دنیا میں بھی بھلائی دے دی اور آخرت میں بھی وہ نیکوکاروں میں سے ہوں گے''

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۖ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا {7} ) (سورۃ الاحزاب: 7)

یعنی: ''اور ہم نے انبیاء علیہم السلام سے پختہ عہد لیا اور اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ سے اور نوح (علیہ السلام) سے اور ابراہیم (علیہ السلام) سے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے اور عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) سے بھی ہم نے ان سب سے بڑا پختہ عہد لیا''

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت