عبادت کرو''۔
عقیدہ توحید کی ضد شرک ہے۔ شرک کو بہت بڑا ظلم اور ناقابل معافی جرم قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ {13} ) (سورۃ لقمان: آیت 13)
یعنی: ''بےشک شرک بہت بڑا ظلم ہے''۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(إِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا {116} ) (سورۃ النساء: آیت 116)
یعنی: ''اس بات کو اللہ تعالیٰ قطعًا نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے علاوہ جو گناہ جس کے لیے چاہے گا معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والا بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا''۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ) (سورۃ التوبہ: آیت 28)
یعنی: ''بلاشبہ مشرک ناپاک ہیں''۔
شرک کے ساتھ تمام نیک اعمال تباہ ہو جاتے ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ {65} ) (سورۃ الزمر: آیت 65)
یعنی: ''یقینًا آپ کی طرف اور آپ سے پہلے تمام نبیوں کی طرف بھی یہی وحی کی گئی ہے کہ اگر آپ نے شرک کیا تو ضرور اللہ تعالیٰ آپ کے اعمال بھی ضائع کر دے گا اور یقینًا آپ خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے''۔
شرکیہ عقیدہ پر مرنے والا آدمی ہمیشہ کے لیے دوزخ کا ایندھن بن جاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: