فهرس الكتاب

الصفحة 215 من 246

الترمذی] کے مقدمہ میں ایک فصل کا درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے:

''الفصل السادس في أنّ حَمَلَۃَ الْعِلْمِ فِيْ الْإِسْلَامِ أَکْثَرُھُمْ الْعَجْمُ۔'' [1]

[چھٹی فصل کہ بلاشبہ اسلام میں اکثر اہل علم عجمی تھے]

پھر اسی فصل کے آغاز میں لکھتے ہیں:

''یہ حیران کن حقیقت ہے، کہ شرعی اور عقلی علوم میں ملت اسلامیہ کے علماء کی اکثریت عجمی تھی، شاذو نادر ہی کوئی دوسرا ہوگا۔'' [2]

انہی عجمی حضرات نے اسلام اور علوم اسلامیہ کی انتہائی قابل قدر خدمت کرنے کی بدولت مذہبی سیادت و قیادت پائی۔ امام ابن الصلاح کا نقل کردہ درج ذیل واقعہ اس حقیقت کو خوب واضح کرتا ہے:

(امام) زہری نے بیان کیا: ''میں عبد الملک بن مروان کے ہاں پہنچا، تو اس نے دریافت کیا:

''اے زہری! کہاں سے آرہے ہو''؟

میں نے جواب دیا: ''مکہ (مکرمہ) سے۔''

اس نے کہا: ''کس کو اس (یعنی مکہ) کے رہنے والوں کی سیادت کرتے چھوڑ کر آئے ہو؟''

میں نے کہا: ''عطاء بن ابی رباح۔''

اس نے پوچھا: ''تو وہ عرب سے ہے یا عجم سے؟''

میں نے جواب دیا: ''عجم سے ہے۔''

[2] المرجع السابق ا/۳۸۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت