فهرس الكتاب

الصفحة 82 من 115

میں سے چھ مفسرین کرام کے اقوال ذیل میں بفضل رب العزت پیش کیے جا رہے ہیں:

ا:علامہ رازی ؒ کا بیان:

انہوں نے لکھا ہے:

''لَعَلَّہٗ أَصَرَّ (آزَرُ) عَلٰی کُفْرِہٖ، فَلِأَجْلِ الإِصْرَارِ اسْتَحَقَّ ذٰلِکَ التَّغْلِیْظَ وَاللّٰہ ُ أَعْلَمُ۔'' [1]

''شاید اس [آزر] نے کفر پر اصرار کیا، اسی لیے اس سختی کا مستحق ٹھہرا۔واللہ تعالیٰ اعلم۔''

ب:علامہ نیسابوری ؒ کا قول:

انہوں نے تحریر کیا ہے:

''وَالتَّغْلِیْظُ مِنْ إِبْرَاہِیْمِ علیہ السلام إِنَّمَا کَانَ لأَجْلِ إِصْرَارِ أَبِیْہِ عَلَی الْکُفْرِ۔'' [2]

''ابراہیم علیہ السلام کی جانب سے یہ درشتی باپ کے کفر پر اصرار کی بنا پر تھی۔''

ج:حافظ ابن کثیر ؒ کی تحریر:

حافظ ؒنے قلم بند کیا ہے:

''وَالْمَقْصُوْدُ أَنَّ إِبْرَاہِیْمَ علیہ السلام وَعْظَ أَبَاہُ فِي عِبَادَۃِ الأَصْنَامِ، وَزَجْرَہُ عَنْہَا، وَنَہَاہُ، فَلَمْ یَنْتَہِ۔'' [3]

''مقصود یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کی عبادت کے سلسلے میں اپنے باپ کو وعظ ونصیحت کی، ڈانٹا اور روکا، لیکن وہ باز نہ آیا۔''

[2] غرائب القرآن ورغائب الفرقان ۷/۱۳۹۔

[3] تفسیر ابن کثیر ۲/۱۶۸۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت