فهرس الكتاب

الصفحة 83 من 115

د:قاضی ابو سعود ؒ کی تفسیر:

انہوں نے [إِنِّي أَرَاکَ وَقَوْمَکَ فِيْ ضَلاَلٍ مُّبِیْنٍ] [1] کے متعلق لکھا ہے:

''وَالْجُمْلَۃُ تَعْلِیْلٌ لِلإِنْکَارِ وَالتَّوْبِیْخِ۔'' [2]

''اس جملے میں [دورانِ احتساب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے] اعتراض اور جھڑکنے کی علت کو بیان کیا گیا ہے۔''

ہ:بعض زیدی مفسرین کا قول:

علامہ محمد جمال الدین قاسمی ؒ نے زیدی فرقے کے بعض مفسرین کا قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا:

''وَتَدُلُّ ہٰذِہِ الآیَۃُ عَلٰی أَنَّ النَّصِیْحَۃَ فِي الدِّیْنِ وَالذَمَّ وَالتَّوْبِیْخَ لِأَجْلِہٖ لَیْسَ مِنَ الْعُقُوْقِ کَالْہِجْرَۃِ'' [3]

یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دین کی خاطر وعظ ونصیحت کرنا، جھڑکنا اور ڈانٹنا والدین کی نافرمانی کے زمرے میں شامل نہیں، جس طرح کہ [دین کی خاطر] ہجرت کرنا [ان سے جدا ہونا نافرمانی میں سے نہیں ہے]

و:شیخ ابن عاشور ؒ کا بیان:

شیخ ؒ رقم طراز ہیں:

''اَلاِسْتِفْہَامُ فِي {أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا أَلِہَۃً} اِسْتِفْہَامُ إِنْکَارٍ وَتَوْبِیْخٍ۔وَالظَّاہِرُ أَنَّ الْمَحْکِيَّ فِي ہٰذِہِ الآیَۃ مَوْقِفٌ مِنْ مَوَاقِفِ إِبْرَاہِیْمَ علیہ السلام مَعَ أَبِیْہِ، وَہُوَ مَوْقِفُ غِلْظَۃٍ، فَیَتَعَیَّنُ أَنَّہُ کَانَ عِنْدَ مَا أَظْہَرَ أَبُوْہٗ تَصَلُّبًا

[2] تفسیر أبي السعود ۳/۱۵۱ ؛ نیز ملاحظہ ہو:فتح البیان في مقاصد القرآن للشیخ صدیق حسن خاں ۳/۱۸۷۔

[3] تفسیر القاسمي ۶/۵۸۶۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت