وقت نکاح میں لانے پر قادر ہے، جو کہ ممتنع ہے۔
[قرآن کریم اور انسانی افعال کا انتساب ] :
[شبہ ] :شیعہ مصنف لکھتا ہے:''قرآن کریم میں اکثر افعال انسانی کو بنی نوع انسان کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں:
{وَاِِبْرٰہِیْمَ الَّذِیْ وَفَّی} (النجم: ۳۷)
''اور ابراہیم کے (صحیفوں میں ) جس نے (عہد) پورا کیا۔ ''
اوراﷲتعالیٰ فرماتے ہیں:
{فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا} (مریم: ۳۷)
''تو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، بڑی ہلاکت ہے۔''
اوراﷲتعالیٰ فرماتے ہیں:
{وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی} (الانعام: ۱۶۳)
''اور نہ کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسری کا بوجھ اٹھائے گی۔''
اوراﷲتعالیٰ فرماتے ہیں:
{ اُدْخُلُوا الجنۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ} (النحل:۳۲)
''جنت میں داخل ہو جاؤ ؛ بسبب ان نیک اعمال کے جو تم کیا کرتے تھے۔''
اوراﷲتعالیٰ فرماتے ہیں:
{ اَلْیَوْمَ تُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ } (غافر: ۱۷)
''آج ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا۔''
اوراﷲتعالیٰ فرماتے ہیں:
{اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَo} (الجاثیۃ: ۲۸)
''آج تمھیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جوتم کیا کرتے تھے ۔''
اوراﷲتعالیٰ فرماتے ہیں:
{مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا وَ مَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلَا یُجْزٰٓی اِلَّا مِثْلَہَا } (الانعام ۱۶۰)
''جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس جیسی دس نیکیاں ہوں گی اور جو برائی لے کر آئے گا سو اسے