حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ سن ۶۱ ھ؛ دس محرم کو پیش آیا ۔یہ یزید کی بادشاہی کا پہلا سال تھا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کسی بھی شہر پر غلبہ حاصل کرنے سے پہلے ہی واقع ہوگئی۔ پھر یزید اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ
جہاں تک پہلے مبحث کا تعلق ہے، ہم اس پر قبل ازیں اظہار خیال کر چکے ہیں کہ یزید اپنے ننھال قبیلہ قضاعہ کے بدویانہ خیموں میں جرأت و شہامت اور تکلف و تصنع سے پاک و سادہ ماحول میں پروان چڑھا۔ شیعہ نے اپنی کتابوں میں یزید کی سیرت و سوانح سے متعلق جھوٹ کا جو طوفان باندھا ہے، یہ یزید پر عظیم ظلم ہے ۔ یزید کی سیرت و کردار کے بارے میں حضرت محمد بن حنفیہ کی شہادت کے بعد مزید کسی تصدیق کی ضرورت نہیں ۔ جب حضرت ابن زبیر کا داعی عبد اﷲ بن مطیع لوگوں کو یزید کے خلاف بغاوت پر آمادہ کر رہا تھا اور یزید کی جانب ان باتوں کو منسوب کر رہا تھا جو اس میں نہ تھیں مثلًا یہ کہ یزید شراب پیتا ہے ۔ نماز نہیں پڑھتا اور احکام قرآنی سے تجاوز کرتا ہے ۔ یہ سن کر محمد بن علی بن ابی طالب المعروف بہ ابن الحنفیہ نے فرمایا: (