لے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ حضرت زکریا علیہ السلام مال دار نہ تھے جن کاورثہ حاصل کیا جاتا ۔آپ بڑھئی کا کام کرتے تھے اور حضرت یحییٰ علیہ السلام دنیوی مال و متاع سے بے نیاز تھے، لہٰذا حضرت یحییٰ علیہ السلام کا مالی میراث حاصل کرنا خارج از بحث ہے۔مزید برآں آپ کا یہ فرمان بھی ہے:
{ وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّ رَآئِ ی} (مریم ]''اور بیشک میں اپنے پیچھے قرابتداروں سے ڈرتا ہوں ۔''یہ معلوم ہے کہ آپ اپنے مرنے کے بعد مال کے لینے سے نہیں ڈرتے تھے؛ کیونکہ یہ کوئی ڈرنے والی بات نہیں ۔
[اعتراض] : شیعہ مصنف رقم طراز ہے: ''جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ: '' میرے والد محترم نے مجھے فدک کی جاگیر ہبہ میں عطا کی تھی۔'' [1] تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جوابًا کہا کہ ''کوئی کالا یا گورا لائیے جو اس
ایک شیعہ عالم ابن المیشم اس پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے:'' حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا: بے شک آپ کو اتنا مال ملے گا جو آپ کے والد گرامی لیتے تھے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فدک کے باغ سے تمہارا خرچ لیتے تھے باقی غرباء میں تقسیم کر دیتے یا مجاہدین کی ضروریات میں خرچ کر دیتے۔ لہٰذا آپ بتائیں کہ آپ اس باغ میں کیسے تصرف کریں گی۔ انہوں نے کہا: میں اپنے والد محترم کے نقش قدم پر چلوں گی۔ اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ سے وعدہ رہا کہ میں ایسے ہی تصرف کروں گا جیسے آپ کے والد گرامی کیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: اﷲ کی قسم کیا تم اس میں ایسے ہی تصرف کرو گے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: '' اﷲ کی قسم ! میں ضرور ویسا ہی تصرف کروں گا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے اﷲ گواہ ہو جا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس باغ کا غلہ لے کر اہل بیت کی ضروریات پوری کرتے اور باقی ماندہ تقسیم کر دیتے ۔ اس طرح حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما نے اپنے اپنے دور خلافت میں کیا ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی اس باغ کا انتظام اسی طریقے پر چلایا ۔'' [ شرح نھج البلاغۃ: ۵؍ ۱۰۷۔ الدرۃ النجفیۃ: ۳۳۱] جناب زید بن علی بن حسین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:'' اﷲ کی قسم! (