ہوئے وہ ان لڑائیوں کی نسبت بہت زیادہ تھے، جو ابتدائی ایام میں بنوامیہ اور بنو ہاشم کے مابین ہوئیں ۔ [1]
اس کی وجہ نسبی شرافت نہیں بلکہ اس لیے کہ سب سے بہتر زمانہ وہ تھا جس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کیے گئے تھے،پھر صحابہ کا زمانہ پھر تابعین کا [2] بہر کیف آپ کے زمانہ میں خیر کا دور دورہ تھا اس کے برعکس آئندہ زمانوں میں شرکا غلبہ ہوگیا۔
اگر شیعہ ان دین دار اور بے ضرر علماء دین کے ہاتھوں فریاد کناں ہیں ، جنہوں نے کسی پر ظلم کیا نہ ظالم کی امداد کے مرتکب ہوئے۔ بجز اس کے کہ وہ حق بات کو بدلائل قاہرہ واضح کر دیتے ہیں تو یہ بڑی غلط بات ہے، کوئی احمق شخص ہی اس بات میں شک و شبہ کا اظہار کرے گا کہ امام مالک، اوزاعی، ثوری، ابو حنیفہ، لیث بن سعد، شافعی، احمد، اسحق (رحمہم اللہ ) اور
[2] عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سب سے بہتر زمانہ میرا ہے، (جس میں صحابہ تھے) پھر وہ زمانہ جو اس کے قریب ہے (عہد تابعین) پھر وہ زمانہ جو اس کے قریب ہے (تبع تابعین کا عہد مبارک) (صحیح بخاری ،کتاب الشہادات، باب لا یشھد علی شھادۃ....(ح:۲۶۵۱) ، صحیح مسلم ، کتاب فضائل الصحابۃ، باب فضل الصحابۃ ثم الذین یلونھم .... (ح:۲۵۳۵) ۔آخری زمانہ اموی خلافت کے آخری دور پر ختم ہوتا ہے، عباسی خلافت کا ابتدائی زمانہ بھی اس میں شامل ہے، حافظ ابن حجر عسقلانی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: '' اس بات پر محدثین کا اتفاق ہے کہ تبع تابعین میں سے آخری مقبول القول شخص وہ ہے جو ۲۲۰ھ تک بقید حیات رہا، اسی زمانہ میں بدعات نے پر پرزے نکالنے شروع کیے معتزلہ نے اپنی زبانیں کھول دیں ، فلاسفہ نے سر اٹھایا، اور خلق قرآن کے مسئلہ میں علماء کو شدید امتحان میں ڈالا گیا اس دور میں حالات سخت بدل گئے اور آئندہ زمانوں میں تنزل و انحطاط کی یہ رو حافظ ابن حجر کے زمانہ یعنی (۷۷۳۔ ۸۵۲) ہجری تک جاری رہی، رسول اﷲ کے ارشاد مبارک کے مطابق اقوال و افعال سے لے کر افکار و معتقدات تک جھوٹ سے ملوث ہوگئے۔ (فتح الباری: ۷؍ ۴)