فهرس الكتاب

الصفحة 456 من 655

تھا کہ مسلمانوں کی بہبود و مصلحت کا تقاضا یہی ہے۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ مدینہ سے نکلنا ان کے لیے موزوں نہ تھا۔چنانچہ ان کی یہ حالت تھی کہ جب بھی مدینہ سے نکلنے کا واقعہ یاد آتا تو اس قدر روتیں کہ دوپٹہ ترہو جاتا۔ [طبقات ابن سعد(۸؍۵۸]

سابقین اوّلین صحابہ جنہوں نے اس جنگ میں شرکت کی تھی؛مثلًا:حضرت طلحہ وزبیر اور علی رضی اللہ عنہم [1] نے بھی اس پر اظہار افسوس کیا تھا۔ جمل کا واقعہ قصدًا نہیں بلکہ غیر اختیاری طور پر پیش آیا تھا۔

اس لیے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کے درمیان جب مراسلت کا آغاز ہوا اور انہوں نے مصالحت پر اتفاق کر لیا کہ جب بھی انہیں قوت حاصل ہوگی وہ اہل فتنہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے بدلہ لیں گے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ قتل

حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے طلحہ بن عبید اﷲ رضی اللہ عنہ کے حالات زندگی میں امام شعبی رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک وادی میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو پڑے ہوئے دیکھا تو ان کے چہرے سے مٹی پونچھی اور کہا اے ابو محمد! اس بے کسی کی حالت میں آپ کا مردہ پڑا ہوا ہونا مجھ پر بڑا شاق گزرا ہے میں اﷲ کے حضور ہی میں اس کا شکوہ عرض کرتا ہوں ۔'' نیز کہا:'' اے کاش! میں آج سے بیس سال پہلے فوت ہوجاتا۔''مستدرک حاکم (۳؍۳۷۲ ،۳۷۳) ، معجم کبیر طبرانی (۲۰۲،۲۰۳) واقعہ جمل کے بعد حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا عمران حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اسے خوش آمدید کہا اور اپنے قریب بٹھا کر فرمایا: مجھے امید ہے کہ اﷲ تعالیٰ مجھے اور آپ کے والد کو ان لوگوں میں شامل کرے گا جن کا ذکر اس آیت میں ہے: {وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِہِمْ مِنْ غِلٍّ} (مستدرک حاکم(۳؍۳۷۷،۲؍۳۵۳) ۔ حارث بن عبد اﷲ اعور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زبردست حامیوں میں سے تھا ۔ وہ ایک کونے میں بیٹھاتھا ۔ حارث کہنے لگا ۔ یہ بات عدل باری تعالیٰ کے منافی ہے کہ ہم عائشہ رضی اللہ عنہا کے رفقاء کو قتل کریں اور وہ جنت میں ہمارے رفیق بھی ہوں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دفع ہو جاؤ اگر میں اور طلحہ رضی اللہ عنہ جنت میں نہیں جائیں گے تو اور کون جائے گا؟ یہ کہہ کر آپ نے ایک دوات اعور پر کھینچ ماری مگر وار خطا گیا اور وہ دوات اسے نہ لگی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت