فهرس الكتاب

الصفحة 55 من 655

نہیں جو کسی ایسے گمان میں مبتلا تھے جو کہ باطل اور غلط نہیں ۔ اس سے واضح ہواکہ اہل طاعت اور اہل کفرو معصیت کی مساوات کا نظریہ بالکل باطل ہے اور اﷲ تعالیٰ ایسا برا حکم صادر کرنے سے منزہ ہے۔مثلًا ارشادالٰہی ہے:

{ اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ کَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ کَالْفُجَّارِ } (ص:۲۸)

''کیا ہم اہل ایمان اور نیک اعمال انجام دینے والوں کوزمین میں فساد بپا کرنے والوں کی طرح کر دیں اور اہل تقویٰ کو فاسق و فاجر لوگوں کی طرح بنا دیں ؟''

نیز ارشاد فرمایا:

{ اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَo مَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ } (القلم:۳۵۔۳۶)

''کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کی طرح بنا دیں ؟کیا ہے تمھیں ، تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟''

خلاصہ کلام ! یہ کہنا کہ رب تعالیٰ نے ابرار نیکو کار اور سیہ کار فجار؛ محسنین اور ظالمین اور اہلِ طاعت و معاصی برابر بنایا ہے، یہ باطل حکم ہے، رب تعالیٰ کو اس سے منزہ قرار دینا واجب ہے۔ کیونکہ یہ اس کی حکمت و عدل کے منافی امر ہے۔ اللہ تعالیٰ مختلف اشیاء میں تسویہ و برابری کا انکار فرماتا ہے۔ سو وہ متماثلات میں برابری کرتا ہے ۔ جیسا کہ ارشاد ہے:

{اَکُفَّارُکُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُوْلٰٓئِکُمْ اَمْ لَکُمْ بَرَائَۃٌ فِی الزُّبُرِo} (القمر: ۳۳)

''کیا تمھارے کفار ان لوگوں سے بہتر ہیں ، یا تمھارے لیے (پہلی) کتابوں میں کوئی چھٹکارا ہے؟''

اور فرمایا:

{کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ} (آل عمران: ۱۱)

'' (ان کاحال) فرعون کی قوم اور ان لوگوں کے حال کی طرح ہے جو ان سے پہلے تھے۔''

اور فرمایا:

{لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِہِمْ عِبْرَۃٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ} (یوسف: ۱۱۱)

''بلاشبہ یقینًا ان کے بیان میں عقلوں والوں کے لیے ہمیشہ سے ایک عبرت ہے۔''

اور فرمایا:

{فَاعْتَبِرُوْا یَااُولِی الْاَبْصَارِo} (الحشر: ۲)

''پس عبرت حاصل کرو اے آنکھوں والو۔''

اور فرمایا:

{وَلَقَدْ اَنزَلْنَا اِِلَیْکُمْ اٰیٰتٍ مُبَیِّنَاتٍ وَّمَثَلًا مِنْ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ} (النور: ۳۳)

''اور بلاشبہ یقینًا ہم نے تمھاری طرف کھول کر بیان کرنے والی آیات اور ان لوگوں کا کچھ حال جو تم سے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت