دیا یہ بھی کہاکہ اگر وہ باز نہ آئیں تو ان سے جنگ آزما ہو؛ اورتین دن تک مدینہ کو پامال کرے۔ یہی وہ بات ہے جس پر لوگوں نے یزیدکے اس فعل کا انکار کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیاکہ: کیا یزید سے حدیث روایت کی جاسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں ' اس کی کوئی کرامت نہیں ' یا یہ فرمایا: کیا یزید وہی نہیں ہے جس نے اہل مدینہ کے ساتھ کیا نہیں کیا ؟''
[2] یزید بن معاویہ کے ایام خلافت ۶۳ ہجری میں حرہ واقم میں یہ مشہور واقعہ پیش آیا تھا۔
[3] قاری اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے متعدد داعی مدینہ میں موجود تھے، ان کے سرخیل عبداﷲ بن مطیع العدوی تھے۔ یہ داعی یزید پر طرح طرح کے بہتان لگا کر لوگوں کو اس کے خلاف بھڑکاتے رہتے تھے۔ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ابن مطیع کو راہ راست پر لانے کی بہت کوشش کی اور اسے سمجھایا کہ یزید کی بیعت توڑنا کوئی اچھا کام نہیں ہے بلکہ یہ عظیم غدر اور بے وفائی ہے۔ (البخاری کتاب الفتن۔ باب اذا قال عند قوم شیئًا ثم و خرج(ح:۷۱۱۱) ، صحیح مسلم۔ کتاب الامارۃ ، باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین (ح:۱۸۵۱)
شہادت حق اور بندوں کی خیر خواہی کے اعتبار سے امام ابن الحنفیہ کا موقف بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے نقطۂ نظر سے کم نہیں ہے، جنھوں نے شیعی اکاذیب کی تردید کرتے ہوئے یہ سچی شہادت دی کہ آپ یزید کے ہاں اقامت گزیں رہ کر اچھی طرح اس کی سیرت و اخلاق کا بچشم خود ملاحظہ کر چکے ہیں ۔ آپ اس بات کے چشم دید گواہ ہیں کہ یزید پابند نماز، اعمال خیر کا حریص، متبع سنت (