دشمن کفار کا ساتھ دیا۔ جیسا کہ کافر تاتاری بادشاہ چنگیز خاں کے زمانہ میں ہوا۔رافضیوں نے مسلمانوں کے خلاف اس کی بھر پوری مدد کی تھی۔
ایسے ہی جب چنگیز خاں کا پوتا ہلاکو خاں خراسان اور عراق و شام کے علاقہ میں آیاتو شیعہ نے اعلانیہ اور خفیہ ہر طرح سے اس کی مدد کی۔ یہ تاریخ کا مشہور واقعہ ہے اور کسی کو اس سے مجال انکار نہیں ؛ اور نہ ہی کسی پر کوئی بات پوشیدہ رہ گئی ہے۔عراق اور خراسان میں ظاہری وباطنی طور پر شیعہ نے کھل کر ان کا ساتھ دیا۔
اس وقت [1] خلیفہ بغداد کا وزیر ابن علقمی [2] بھی شیعہ تھا'' وہ ہمیشہ خلیفہ اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کرتا رہتا۔''
فِی تارِیخِ ابنِ الأثِیرِ:۱۲؍۱۳۷؛ البِدایِۃ والنِہایۃِ:۱۳؍۸۶؛ وقد توفِی جنکیِزخان سن:۶۲۴ھ۔ وانظر عنہ: البِدایۃ والنِہایۃ: ۱۳؍۱۱۷؛ دائِرۃ المعارِفِ الإِسلامِیِ مقالۃ بارتولد۔
[2] اس کا نام محمد بن احمد بغدادی ہے۔ یہ ابن علقمی کے نام سے مشہور تھا۔ یہ ۶۵۶ھ میں فوت ہوا۔ نوجوانی میں یہ شیعہ ادباء میں شمار ہوتا تھا۔ اہل سنت نے اس کے بارے میں تساہل سے کام لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ مناصب جلیلہ طے کرتے کرتے خلافت عباسیہ میں وزارت کے عہدہ تک پہنچا اور چودہ سال تک اس پر فائز رہا۔ آخری عباسی خلیفہ المستعصم نے ابن العلقمی پر اس قدر اعتماد کیا کہ جملہ امور سلطنت اسے تفویض کردیے۔ جب صنم پرست ہلاکو خاں کا لشکر بلاد ایران میں داخل ہوا تو ابن العلقمی نے اسے بغداد پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا، ابن العلقمی کو امید تھی کہ خلافت عباسیہ کے سقوط کے بعد ہلاکو خاں کسی شیعہ کو امام یا خلیفہ مقرر کرے گا۔ ہلا کو خاں قوم تاتار کرج کے دو لاکھ سپاہیوں کو لے کر بغداد پر حملہ آور ہوا۔ ابن علقمی نے خلیفہ مستعصم کو دھوکہ دے کر ہلاکو خاں کے کام کو بڑی حدتک آسان کردیا۔ جب ہلاکو نے اپنی فوج کو بغداد کی شرقی و غربی جانب اتار دیا۔ ابن علقمی نے خلیفہ سے صلح کی سلسلہ جنبانی کے لیے خلیفہ سے ہلاکو خاں کو ملنے کی اجازت مانگی۔ جب ابن علقمی ہلاکو کو اپنی وفا شعاری اور خلافت عباسیہ سے خیانت کاری کا یقین دلا چکا تو خلیفہ کے پاس لوٹ کر واپس آیا اور کہنے لگا: ہلاکو اپنی بیٹی کا نکاح خلیفہ کے بیٹے ابوبکر سے کرنا چاہتا ہے ۔نیز ہلاکو کی خواہش ہے کہ وہ سلجوق سلاطین کی طرح خلیفہ کے زیر اثر رہے۔ خلیفہ علماء و رؤسا اور اعیان حکومت کی معیت میں بزعم خود اپنے بیٹے کو بیاہنے کے لیے ہلاکو کی جانب چل دیا۔ (