مسائل ہیں جنہیں وہ علمائے اہل بیت سے نقل کرتے ہیں ۔ جیسے کہ حضرت علی بن الحسین؛ اور ان کے بیٹے ابو جعفر محمد؛ اور ان کے بیٹے جعفر بن محمد سے منقول روایات ۔
٭ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے راضی ہوجائیں ؛ یہ حضرات دین کے امام و پیشوااور مسلمانوں کے سردار ہیں ۔ لیکن یہ لوگ ان حضرت تک پہنچنے والی اسناد پر کوئی غور نہیں کرتے۔ کیا یہ منقول روایت ان سے ثابت بھی ہے یا نہیں ؟اس لیے کہ ان لوگوں کو صناعت حدیث اور اسناد کی کوئی معرفت ہی نہیں ۔ پھر ان میں سے کوئی ایک جب کوئی بات کہتا ہے تو کتاب و سنت سے اس کی دلیل نہیں طلب کی جاتی ؛ اور نہ ہی اس کے معارض مسائل کا پوچھا جاتا ہے۔ اور پھر جن باتوں میں مسلمانوں کا اختلاف ہوجائے ؛ تو اختلافی مسائل کو ویسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں لوٹاتے جیسا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔
بلکہ ان شیعہ نے تین اصول مقرر کررکھے ہیں:
۱۔ تمام ائمہ معصوم ہیں ۔ [1]
۲۔ جو بات ائمہ سے نقل کی جائے وہ اسی طرح ہے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہو۔
۳۔ اہل بیت کا اجماع حجت ہے۔اورشیعہ کے ائمہ اہل بیت میں شامل ہیں ۔ [2]
اس لیے گویا ان کے ہاں کوئی شرعی دلیل ہے نہ تعلیل۔ یہی وجہ ہے کہ شیعہ فقہ و تحقیق اور علم و توفیق سے محروم ہیں ؛بلکہ ان چیزوں سے ایسے نکل گئے ہیں جیسے آٹے سے بال نکال دیا جاتا ہے۔
ایسے ہی شیعہ عالم ابن بابویہ نے عقیدہ امامت یوں بیان کیا: ''بیشک ائمہ معصوم اور ہر قسم کی غلاظت سے پاک ہیں ، بلا شبہ وہ کوئی چھوٹا بڑا گناہ نہیں کرتے اور نہ اﷲتعالیٰ کے اوامر میں اس کی نافرمانی کرتے ہیں ۔ اور انہیں جو حکم دیا جاتا اس پر عمل کرتے ہیں ۔ جس شخص نے ان کی کسی بھی حالت میں عصمت کی نفی کی تو اس نے انہیں جاہل قرار دیا اور جس نے انہیں جاہل قرار دیا تو وہ کافر ہے۔ ہمارا ان کے متعلق عقیدہ یہ ہے کہ وہ معصوم ہیں ۔ انہیں عصمت میں کمال حاصل ہے۔ انہیں ابتداء سے لے کر انتہا تک کامل علم اور مکمل عصمت حاصل ہوتی ہے۔ وہ اپنے کسی فعل میں نقص، نافرمانی اور جہالت سے موصوف نہیں ہیں ۔'' الاعتقادات: ۱۰۸۔ باب الاعتقاد في العصمۃ۔
[2] شیعہ کے نزدیک عام اجماع حجت نہیں ہے بجز اس کے کہ ان کے ائمہ العصرمیں میں سے کوئی ایک اس میں موجود ہو، ان کے شیخ المطہرالحلی نے کہا ہے: '' اجماع ہمارے نزدیک حجت ہے کیونکہ اس میں ہمارے امام المعصوم کا قول شامل ہے، ہر جماعت خواہ کثیر ہو یا قلیل،ہمارے امام کا قول بھی ان جملہ اقوال میں سے ایک ہو،یہ اجماع صرف اسی قول ِامام کی وجہ سے حجت ہے؛ صرف اجماع ہونے کی وجہ سے حجت نہیں ہے۔'' [[الفہرست للطوسی ص ۲۲۔ وسائل الشیعہ ۲۰؍۲۳۳۔ ] ]