(۱) ....اے متقی (قاتل علی) کی وہ ضرب جو قابل تحسین تھی جس سے اس کا مقصد صرف رضائے الٰہی کا حصول تھا۔
(۲) ....میں کبھی کبھی اسے یاد کرتا ہوں تو یوں خیال کرتا ہوں کہ سب مخلوقات سے اﷲکے نزدیک اس کا اعمال نامہ زیادہ بھرپور تھا۔
ایک سنی شاعر نے اس کے مقابلہ میں یہ اشعار کہے:
۱....یَا ضَرْبَۃً مِّنْ شَقِیٍّ مَا اَرَادَ بِہَا اِلَّا لِیَبْلُغَ مِنْ ذِی الْعَرشِ خُسْرَانًا
۲....اِنِّیْ لَاَذْکُرُہٗ یَوْمًا فَاَلْعَنُہٗ لَعْنًا وَّاَلْعَنُ عِمْرَانَ ابْنَ حِطَّانًا
(۱) ہائے اس بدبخت کی وہ ضرب جس سے اس کا مقصد اﷲسے خسارہ پانے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ (۲) میں بعض اوقات یاد کرکے اس پر لعنت بھیجتا ہوں اور عمران بن حطان پر بھی لعنت بھیجتا ہوں ۔ (جس نے مذکورہ بالااشعار کہے) ۔
یہ خوارج تقریبًا اٹھارہ فرقے تھے۔ جیسے ازارقہ [1] :نافع بن ازرق کے اتباع کار۔
نجدات: [2] نجدۃ الحروری کے اتباع کار۔
[2] انہیں نجدیہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نجدہ بن عامر حنفی کے اتباع کار ہیں ۔ یہ انسان ۳۶ہجری میں پیدا ہوا؛ اور ۶۱ ہجری میں وفات ہوئی۔ بظاہر یہ بھی نافع بن ازرق کا پیروکار تھا۔پھر اس کی مخالفت میں علیحدہ سے ایک مذہب کی بنیاد رکھ لی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر کے ایام میں بحرین میں اس کی مستقل حکومت تھی؛ اور اسے امیر المؤمنین کہا جاتا تھا۔ پانچ سال تک اس کی حکومت رہی ؛ پھر اسے قتل کردیا گیا۔ علامہ اشعری کہتے ہیں: نجدات بھی دوسرے تمام خوارج کی طرح ہیں ۔ان کا کہناہے: ہر کبیرہ گناہ کفر ہے۔ اور کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ کبیرہ گناہ کے مرتکب کو دائمی عذاب دیں گے۔ اور ان کا خیال ہے کہ جو کوئی صغیرہ گناہ پر اصرار کرتا ہے؛ وہ مشرک ہے۔ او رجس نے کبیرہ گناہ کیا؛ اور وہ اس پر مصر نہ ہو؛ تو وہ مسلمان ہے ۔ نجدات کہتے ہیں: لوگوں کے لیے کسی کو حاکم بنانا ضروری نہیں ہے۔ بس ان کے باہمی معاملات عدل و انصاف اور حق پر مبنی ہونے چاہییں ۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں:
لِسان المِیزانِ۶؍۱۴۸، شذراتِ الذہبِ:۱؍۷۶ ، الکامِل لِابنِ الأثِیرِ:۴؍۷۸، الأعلام:۸؍۳۲۴، مقالاتِ الإِسلامِیِین: ۱؍۱۵۶، الفرق بین الفِرقِ ص:۵۴، المِلل والنِحل:۱؍۱۱۰، التبصر فِی الدِینِ ص ۳۱، الفِصل فِی المِلل والنِحل:۵؍۵۳، الخطط لِلمقرِیزِیِ: ۲؍۳۵۴۔