٭ جہاں تک آپ کو خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہنے کا تعلق ہے تو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں نے خلیفہ رسول پکارنا شروع کیا ۔ اگر خلیفہ سے مراد وہ ہے جسے اپنے بعد نائب بنایا جائے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنا نائب مقرر کیا تھا ؛ جیسا کہ اہل سنت والجماعت میں سے بعض علماء کرام کہتے ہیں ۔
اگر خلیفہ سے مراد وہ ہے جوخود کسی کا قائم مقام بن جائے ؛ اگرچہ اسے نائب نہ بھی بنایا گیا ہو؛ جیسا کہ جمہور علماء کا قول ہے۔توپھر اس نام کے لیے استخلاف کی کوئی ضرورت ہی نہیں ۔کتاب و سنت کے دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ خلیفہ اسے کہتے ہیں جو دوسرے کا قائم مقام بن جائے خواہ اسے نائب بنایا جائے یا نہ بنایا جائے ۔ [ اس کی مثالیں:] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{ثُمَّ جَعَلْنٰکُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْ بَعْدِہِمْ لِنَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ} [یونس ۱۴]
'' پھر ان کے بعد ہم نے زمین میں تمہیں ان کے جانشین کیاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔''
نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{وَ ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰآئِفَ الْاَرْضِ } [الأنعام ۱۶۵]
''وہ ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ۔''
اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{وَلَوْ نَشَائُ لَجَعَلْنَا مِنْکُمْ مَلَائِکَۃً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ } [الزخرف ۶۰]
''اگر ہم چاہتے تو تمہاری جگہ فرشتے کر دیتے جو زمین میں جانشینی کرتے ۔''
اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{ وَ اذْکُرُوْٓا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآئَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ } [الأعراف ۶۹]
'' اور تم وہ وقت یاد کرو کہ جب اللہ نے تم کو قوم نوح کے بعد جانشین بنایا ۔''
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{ خُلَفَآئَ مِنْ بَعْدِ عَادٍ } [الأعراف ۷۴]
''جب قوم عاد کے بعد تمہیں اللہ نے جانشین بنایا ۔''
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{ وَ قَالَ مُوْسٰی لِاَخِیْہِ ھٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ} [الأعراف ۱۴۲]
''اور موسی علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے کہا کہ میرے بعدقوم میں میرے جانشین رہنا ۔''