فهرس الكتاب

الصفحة 203 من 712

فرماں بردار ہو گئی۔''

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

{یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ہَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ} (المائدۃ: ۴۴)

''اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے انبیاء جو فرماں بردار تھے، ان لوگوں کے لیے جو یہودی بنے اور رب والے اور علماء۔''

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

{وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَی الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاشْہَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَo}

(المائدۃ: ۱۱۱)

''اور جب میں نے حواریوں کی طرف وحی کی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ، انھوں نے کہا ہم ایمان لائے اور گواہ رہ کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں ۔''

صحیحین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ''ہم گروہ انبیاء ہیں ، ہمارا دین ایک ہی ہے۔'' [1]

غرض شرائع کا تنوع یہ دین کے ایک ہونے کو مانع نہیں اور وہ اسلام ہے۔ جیسے وہ دین جس کے ساتھ رب تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے، وہ اول و آخر ہر اعتبار سے اسلام ہی ہے۔اول اول قبلہ بیت المقدس تھا جو بعد میں کعبہ مقرر کر دیا گیا۔ لیکن ان دونوں اوال میں دین ایک ہی رہا اور وہ ہے اسلام۔

ہم سے پہلے کے جملہ انبیاء علیہم السلام کی شریعتیں بھی ایسی ہی ہیں اسی لیے رب تعالیٰ نے قرآن کریم میں حق کو ذکر فرما کر فرمایا ہے کہ وہ ایک ہی ہے، البتہ باطل کئی قسم پر ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَ اَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ} (الانعام: ۱۵۳)

امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی صفحہ پر قریب قریب انہی الفاظ کے ساتھ ایک اور حدیث بھی روایت کی ہے۔ ''صحیح مسلم'' (۴؍۱۸۳۷) کتاب الفضائل میں یہ حدیث ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ تین طرق سے مروی ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔ امام ابن حجر ''فتح الباری'' (۶؍۴۸۹) طبعۃ السلفیۃ میں لکھتے ہیں: علات: عین کے فتح کے ساتھ یہ سوکنوں کو کہتے ہیں ، اور ان کا یہ نام اس لیے ہے گویا کہ خاوند ایک پر دوسری کو بیاہ کر سے پیتا ہے۔ کیونکہ ''علات'' یہ علل سے ہے اور علل یہ ایک دفعہ سیراب ہونے کے بعد دوسری دفعہ پینے کو کہتے ہیں اور علاتی اولاد باپ شریک کو کہتے ہیں جن کی مائیں تو جدا جدا ہوں مگر باپ ایک ہو۔ اسی معنی میں حدیث ''سنن ابی داود'' (۴؍۳۰۲) ، مسند احمد (۲؍۳۱۹، ۴۰۶) طبعۃ الحلبی اور ''ترتیب مسند الطیالسی'' (۲؍۸۴) میں بھی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت