فهرس الكتاب

الصفحة 257 من 712

ہے۔ جیسے زندقہ کی وجہ سے مارنا جانے والا سہروردی [1] اور ابن سبعین [2] وغیرہ، جو نبوت کے طالب بن بیٹھے تھے۔

بخلاف اس کے جو اللہ کی لائی شریعت کو مانتا ہے اور مانتا ہے کہ شریعت کے ظاہر کو بدلنے کی کوئی صورت نہیں ۔ وہ ختم نبوت کا بھی قائل ہے لیکن ولایت ختم نہیں ہوئی۔ لیکن افسوس کہ وہ ولایت کی بات ایسی باتیں مانتا ہے جو نبوت سے بھی برتر ہیں اور وہ نبیوں اور رسولوں کو بھی حاصل نہیں اور یہ کہ نبی بھی ولایت سے مستفید ہوتے ہیں ۔

پھر ان میں سے کوئی حلول اور اتحاد کا قائل ہے۔ اس باب میں بھی ان میں آگے دو قسم کے لوگ ہیں:

۱۔ ایک وہ ہے جو عام اور مطلق حلول اور اتحاد کا قائل ہے جیسے ابن عربی وغیرہ۔ یہ لوگ ولایت کو نبوت سے افضل مانتے ہیں جیسا کہ ابن عربی کا یہ شعر ہے:

''مقامِ نبوت برزخ میں ہے جو رسول سے اوپر ہے البتہ ولی سے اوپر نہیں ۔'' [3]

ابن العربی ''الفصوص'' [4] میں کہتے ہیں: ''یہ علم خاتم الانبیاء و الرسل کا ہے جس کے چراغ سے ہر پیغمبر نے علم لیا ہے اور ہر ولی نے اسے خاتم الاولیاء کے چراغ سے لیا ہے، حتیٰ کہ اگر اس علم کو رسول دیکھ لیتے تو اسے صرف خاتم الاولیاء کے چراغ سے لیتے۔ کیونکہ نبوت و رسالت ۔یعنی تشریع و نبوت۔ دونوں ختم ہو چکے ہیں جبکہ ولایت کبھی ختم نہ ہو گی۔ پھر رسول

[2] امام ابن تیمیہ اپنی کتاب ''درء تعارض العقل و النقل'' (۵؍۲۲) میں لکھتے ہیں: ان میں سے ہر ایک نبوت و رسالت کا مدعی بن بیٹھا یا وہ چاہتا تھا کہ اس کی نبوت و رسالت کا معاملہ بے غبار ہو جائے۔ مگر تلوار سے ڈر لگتا ہے۔ جیسا کہ سہروردی مقتول نے کیا تھا کہ وہ کہا کرتا تھا کہ میں اس وقت تک نہ مروں گا جب تک میرے بارے میں یہ نہ کہہ دیا جائے: ''قم فانذر'' (اٹھو اور ڈراؤ) اور ابن سبعین کہا کرتا تھاکہ ابن آمنہ صلی اللہ علیہ وسلم (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے یہ فرما کر کہ ''لا نبی بعدی'' نبوت کے راستے کو بند کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ غارِ حراء ڈھونڈتا تھا تاکہ اس میں اس پر بھی وحی اترے۔ شیخ الاسلام کے اس قول پر میں یہ کہتا ہوں کہ ڈاکٹر محمد علی ابو ریان نے سہروردی کی کتاب ''ہیاکل النور'' (ص ۱۱) طبعۃ التجاریۃ القاہرۃ کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ جب حلب کی جامع مسجد میں مناقشہ کے دوران علماء نے سہروردی سے پوچھا کہ کیا رب تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کی تخلیق پر قادر ہے؟ تو اس نے یہ جواب دیا کہ اس ذات کی قدرت کی کوئی حد نہیں ۔''

اور دکتور ابو الوفاء تفتازانی اپنے مقالہ ''ابن سبعین و حکیم الاشراق'' (ص ۲۹۶) میں لکھتے ہیں: سہروردی کی ''کتاب التذکاری'' طبعۃ القاہرۃ، اسی طرح ابن سبعین کا معاملہ ہے کہ وہ ''بد العارف'' میں اس بات کی صراحت کرتا ہے کہ نبوت ایک ممنوعہ رتبہ ہے جس کی کسی بھی طرح طمع نہیں کی جا سکتی اگرچہ انسان کی طبیعت میں یا اس کی جنس کی طبیعت میں یہ بات ہے کہ اسے بھی نبوت ملے۔ کیونکہ انبیاء بشر ہی تو ہیں ۔'' (دیکھیں: گزشتہ مذکورہ دونوں مراجع اور اصول الفلسفۃ الاشراقیۃ، ص: ۳۰۴۔۳۱۲ لابی ریان، مقدمۃ کتاب حکمۃ الاشراق للسہروردی، ص: ۱۱۔۱۲ طبع پیرس، ۱۹۵۲، کتاب التلویحات، ص: ۹۵۔۱۱۳ طبع استنبول، ۱۹۴۵)

[3] مجھے یہ شعر نہیں ملا البتہ اس کے ہم معنی شعر ملا ہے جو یہ ہے: ''نبوت کا آسمان برزخ میں ہے جو ولی سے نیچے ہے اور رسول سے اوپر ہے۔'' (دیکھیں: لطائف الاسرار لابن عربی، ص: ۴۹ تحقیق احمد زکی طبع دار الفکر العربی)

[4] دیکھیں: فصوص الحکم: ۱؍۶۲۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت