کرتے۔ [1]
رافضی کا یہ قول کہ:حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:'' میری موجودگی میں شرعی حدود کو پامال نہیں کیا جا سکتا۔''
یہ صریح کذب ہے۔اگر اس واقعہ کو سچا بھی تسلیم کرلیں تو یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بہت بڑی فضیلت اور مدح کا موجب ہے ؛ کیونکہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول مان لیا ؛ اور آپ کو حد قائم کرنے سے نہیں روکا۔حالانکہ اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حد قائم نہ کرنا چاہتے ہوتے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو روک سکتے تھے۔اس لیے کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کسی چیز کا ارادہ کرتے تھے تو پھر اسے کر گزرتے تھے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بس میں نہیں تھا کہ آپ کو روک سکتے ۔اگر ایسا نہ ہوتا؛ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کو کسی بھی کام سے جسے آپ برا سمجھتے ہوں ' روکنے کی قدرت رکھتے ہوتے ؛ تو پھر جن باتوں کی وجہ سے آپ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر انکار نقل کیا جاتا ہے ؛ مگر اس کے باوجو د حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کو ان کاموں سے روکا نہیں ؛ تو یہ امر خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں قدح و اعتراض کا موجب ہوتا۔
جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کو حد قائم کرنے کا حکم دیا ؛ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ بات مان بھی لی ؛ تو اس سے آپ کا عدل و انصاف اور دین داری ظاہر ہوتی ہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بالا ولید بن عقبہ کو کوفہ پر والی تعینات کیا تھا۔شیعہ کے نزدیک ایسا کرنا جائز نہ تھا۔اگر اسے والی تعینات کرنا حرام تھا؛ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اس سے روکنے پر قادر تھے؛ تو آپ پر واجب تھا کہ اس سے منع کرتے۔ جب آپ نے منع نہیں کیا تو یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاں جائز ہونے کی دلیل ہے۔ یا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ ایسا کرنے سے عاجز تھے ۔
دوسری بات:....استاذ محب الدین خطیب رحمہ اللہ نے العواصم من القواصم ص ۹۴ پر اس روایت کے متعلق گفتگو کی ہے؛ وہ کہتے ہیں: جن دو حضرات نے ولید بن عقبہ پر گواہی دی تھی؛ ان کے بارے میں کثرت کے ساتھ خیانت کی خبریں پہلے سے موجود تھیں ۔ [لہٰذا ان کی گواہی اس لحاظ ناقابل اعتبار ٹھہری] ۔ اوریہ کہ اس روایت میں وہ کہتا ہے: میں دو رکعت سے زیادہ کرتا ہوں '' اس میں زیادہ کرنے کے الفاظ راوی حضین کی طرف سے اضافہ ہیں ؛ جو کہ اس خودساختہ واقعہ پر کوفہ میں موجود ہی نہیں تھا۔اور اس کی سند میں دیگر کوئی معروف راوی نہیں پایا جاتا۔ مزید تفصیل کے لیے العواصم من القواصم کا مطالعہ کریں ۔