الصفحة 5 من 76

بسم اللّٰه الرحمن الرحيم

تصدیر

اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَ نَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ ،وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَیِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ھَادِيَ لَہٗ ،وَأَشْہَدُ أَنْ لَّااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔اَمَّابَعْدُ!

قارئینِ کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہٗ

زیرِ نظر کتاب دورسالوں کا مجموعہ ہے جن میں سے ہر ایک میں ایک انتہائی اہم سوال کا مفصل ومدلل جواب مذکور ہے۔ان دونوں سوالوں کا تعلق ایک انتہائی حسّاس موضوع سے ہے اور وہ موضوع ہے''معیارِ امامت''کہ نماز کی امامت کروانے والے امام میں کون کون سی شرائط کا پایا جانا ضروری ہے؟وہ کس عقیدہ کا مالک ہو؟وہ کن صفات سے متصف ہو؟وہ کس علمی واخلاقی معیارپر پورا اترتاہو؟اور وہ دینداری وامانتداری کے کس مقام پر فائز ہو؟غرض''اہلیتِ امامت''قدرے طویل موضوع ہے البتہ اسکا ایک انتہائی اہم اور بنیادی پہلو''صحتِ عقیدہ'' ہے،جس پر اس کتاب میں تفصیلی بحث کی گئی ہے۔

جبکہ ہمارے برصغیر پاک وہند میں پڑھی پڑھائی جانے والی فقہی کتب میں عمومًا امامت کے معیار وشرائط کے بارے میں بعض باتیں ایسی بھی ذکر کی گئی ہیں جنکا نہ صرف یہ کہ شرعًا کوئی ثبوت نہیں ملتا بلکہ وہ انتہائی ناگفتہ بہ وشرمناک بھی ہیں ہم ان کی تفصیل میں تو نہیں جائیں گے البتہ اشارہ کئے بغیر گزر جانے سے یہ غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے کہ ایسی کوئی شرمناک بات تھی تو ذکر کیوں نہ کی لہٰذا اس غلط فہمی کے سدّ باب کیلئے اپنے نفیس طبع وسلیم فطرت قارئین سے معذرت کے ساتھ چند جملے لکھنے کی جسارت کریں گے مثلًا:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت