(( سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَقُوْلُ مَا بَیْنَ الرُّکْنَیْنِ: رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الآْخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ ) ) [1] (البقرۃ:۲۰۲)
۱۔ نامعلوم صحابی کی روایت کو فاکہی نے ''اخبارِ مکہ'' (۱/ ۱۴۵) میں روایت کیا ہے۔ اس میں اگر ابن جریج کا اس روایت کو لفظ ''عن'' سے بیان کرنا نہ ہو تو اس کی سند صحیح ہے۔
۲۔ حدیثِ ابو ہریرہ کو ابن ماجہ (۲۹۵۶) باب ''فضل الطواف'' فاکہی (۱/ ۱۳۸) اور ابن عدی (۲/ ۶۹۰) نے روایت کیا ہے۔ اس میں ہے کہ رکنِ یمانی پر ستر فرشتے متعین ہیں جو شخص یہ دعا: (( اَللّٰھُمَّ اِنِّيْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِي الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا۔۔۔ ) )پڑھتا ہے تو وہ آمین کہتے ہیں مگر اس کی سند ضعیف ہے۔
۳۔ حدیثِ علی رضی اللہ عنہ: اس کو فاکہی (۱/ ۱۳۷) نے روایت کیاہے۔ اس میں ستر فرشتوں کی بجائے ایک فرشتے کا ذکر ہے۔ مگر اس کی بھی سند ضعیف ہے۔ فاکہی نے اس کو ایک دوسری سند سے بھی روایت کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ۱/ ۱۴۶) اس طریق میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا {رَبَّنَا اٰتِنَا۔۔۔} پڑھا کرتے تھے اور اس کے شروع میں ایک اور دعا کا بھی اضافہ ہے مگر اس کی سند یاسین بن معاذ کی وجہ سے سخت ضعیف ہے، نیز اسی طریق سے اس کو ازرقی (۱/ ۳۴۰) نے علی رضی اللہ عنہ پر موقوفًا روایت کیا ہے۔
۴۔ حدیثِ ابن عباس رضی اللہ عنہما ۔ اس میں بھی حدیثِ علی رضی اللہ عنہ کی طرح ہے کہ رکنِ یمانی پر ایک فرشتہ متعین ہے جو آمین کہتا ہے لہٰذا اس سے گزرتے وقت یہ دعا {رَبَّنَا اٰتِنَا۔۔۔} پڑھو۔ اس کو ابن ابی شیبہ (۶/ ۸۲۔ دارالتاج) ازرقی (۱/ ۳۴۱) فاکہی (۱/ ۱۱۰- ۱۳۹)