فهرس الكتاب

الصفحة 222 من 396

۵۔ حدیثِ ابن عمر کو فاکہی (۱/ ۹۹) نے روایت کیا ہے۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان یہ دعا پڑھتے تھے مگر اس کی سند واقدی کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔ اسی سلسلے کی سعید بن المسیب کی ایک مرسل روایت بھی ہے جسے ازرقی (۱/ ۳۴۰) نے روایت کیا ہے۔ ایک تو یہ مرسل ہے نیز اس میں یاسین بن معاذ ہے جو سخت ضعیف بلکہ متہم ہے۔

حاصل کلام: حدیث الباب اپنے ان شواہد کی بنا پر صحیح ہے؛ ان میں سے بعض شواہد کی سندیں اگرچہ انتہائی ضعیف ہیں مگر بعض کی سندیں شواہد بننے کے قابل ہیں ۔ نیز صحابہ رضی اللہ عنہم کے عمل سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ اس مقام پر اس دعا کا عمر بن خطاب اور عبدالرحمن بن عوف سے پڑھنا ثابت ہے اور علی اور ابن عمر سے پڑھنا وارد ہے:

۱۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اثر کو ابن ابی شیبہ (۱۰/ ۲۶۲) فاکہی (۱/ ۲۲۹) بیہقی (۵/ ۸۴) عبداللہ بن احمد نے ''زوائد الزھد'' (۱۴۶) میں اور ان سے خطیب بغدادی نے ''الموضح'' (۲/ ۴۰۸) میں حبیب بن صہبان کے طریق سے، عبدالرزاق (۸۹۶۶) نے اور ان سے طبرانی نے ''الدعا'' (۸۵۷) میں ایک نامعلوم آدمی کے طریق سے اور ازرقی (۲/ ۱۱) اور فاکہی (۱/ ۲۳۰) نے ایک تیسرے طریق سے روایت کیا ہے۔ حبیب بن صہبان والی سند حسن درجہ کی ہے اور باقی دونوں طریق ضعیف ہیں۔

۲۔ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کے اثر کو فاکہی (۱/ ۱۰۰، ۲۳۰) ازرقی (۲/ ۱۱) اور طبرانی نے 'ـ'الدعا'' (۸۵۵) میں روایت کیا ہے۔ یہ اثر عبدالرحمن بن عوف سے بھی تین سندوں سے مروی ہے، جن میں ایک سند جو فاکہی کے ہاں ہے، حسن درجہ کی ہے اور باقی دونوں سندوں میں انقطاع ہے۔

۳۔ علی رضی اللہ عنہ کے اثر کو ازرقی (۱/ ۳۴۰) نے روایت کیا ہے اور اس کی سند سخت ضعیف ہے۔

۴۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے اثر کو عبد الرزاق (۸۹۶۴، ۸۹۶۵) ابن ابی شیبہ (۶/ ۸۲۔ دارالتاج) فاکہی (۱/ ۱۰۹، ۱۱۰) اور طبرانی نے ''الدعا'' (۸۵۶، ۸۵۸) میں روایت کیا ہے۔ اس میں ایک راوی ابو شعبہ ہے، اگر یہ ثقہ ہے تو اس کی سند صحیح ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت