الصفحة 105 من 228

اول وقت نماز کی فضیلت:

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل افضل ہے ؟آپ نے فرمایا:''اول وقت پر نماز پڑھنا۔'' (صحیح ابن خزیمہ:۳۲۷،صحیح ابن حبان:۲۸۰۔الموارد اسے حاکم اور ذہبی نے صحیح کہا ہے المستدرک: ۱/۱۸۸، ۱۸۹ح۶۷۵)

تاخیر سے نماز پڑھنا منافق کا عمل ہے۔ (مسلم:۶۲۲)

یاد رہے کہ تمام نمازوں کو اول وقت پڑھنا افضل ہے لیکن نماز عشاء کو تاخیر سے پڑھنا افضل ہے۔

نماز جمعہ:

اس کا وقت یہ کہ جب سورج ڈھل جائے تو اس وقت یہ نماز پڑھی جائے۔ (بخاری:۹۰۴)

اس کو سردیوں میں جلد اور سخت گرمی میں دیر سے پڑھنا چاہیے۔ (بخاری:۹۰۶)

نماز عیدین:

ان کا وقت چاشت کا وقت ہے ۔سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ عید الفطر کے دن نماز کے لیے گئے ۔

امام نے نماز میں تاخیر کر دی تو وہ فرمانے لگے کہ:

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم اس وقت نماز سے فارغ ہو چکے ہوتے تھے، راوی کہتا ہے کہ یہ چاشت کا وقت تھا۔''

(ابوداؤد:۱۱۳۵ اسے حاکم اور ذہبی نے صحیح کہا ہے)

فوت شدہ نماز کا وقت:

جو شخص نماز پڑھنی بھول جائے (یا سویا رہے) پس اس کا کفارہ یہ ہے جس وقت اسے یاد آئے (یا بیدار ہو) تو اس فوت شدہ نماز کو پڑھ لے۔ (بخاری:۵۹۷، مسلم:۶۸۴)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت