الصفحة 106 من 228

نفلی نمازوں کے اوقات:

نماز استسقاء کا وقت:

اس کا وقت یہ ہے کہ سورج نکلتے ہی اس کو ادا کیا جائے۔

(ابو داؤد: ۱۱۷۳ اسے حاکم(المستدرک: ۱/۲۶۸) ابن حبان (ح۶۰۴) اور ذہبی نے صحیح کہا ہے۔)

٭:نماز استسقاء اس وقت پڑھی جاتی ہے جب قحط سالی ہو مینہ نہ برسے تو اللہ تعالی سے بارش طلب کرنے کے لیے یہ نماز (جس کا خاص طریقہ ہے ) پڑھی جاتی ہے۔

نماز اشراق:

وہ نماز جو طلوع آفتاب کے بعد ادا کی جاتی ہے اور یہی اس کا وقت ہے ۔

نماز چاشت:

اس وقت یہ نماز پڑھی جائے جب شدتِ گرمی کی وجہ سے اونٹنی کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔ (مسلم:۷۴۸)

یاد رہے نماز چاشت اور نما ز اوابین ایک ہی ہیں۔

نمازوتر:

رات کے تمام حصوں میں نماز وتر پڑھنی مسنون ہے، اسی کا آخری وقت سحری تک ہے۔ (بخاری:۹۹۶،مسلم:۷۴۵)

اس کا وقت نماز عشاء اور طلوع فجر کے درمیان ہے۔ (ابوداؤد:۱۴۱۸، صححہ الالبانی ،الصحیحہ:۱۰۸)

امام ابن المنذر فرماتے ہیں کہ:

''اجماع ہے کہ عشاء اور طلوع فجر کے درمیان کا سارا وقت وتر کا وقت ہے۔'' (کتاب الاجماع:رقم۷۶)

رات کی آخری نماز وتر ہونی چاہیے۔ (بخاری:۹۹۸،مسلم:۷۵۱)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت