نفلی نمازوں کے اوقات:
نماز استسقاء کا وقت:
اس کا وقت یہ ہے کہ سورج نکلتے ہی اس کو ادا کیا جائے۔
(ابو داؤد: ۱۱۷۳ اسے حاکم(المستدرک: ۱/۲۶۸) ابن حبان (ح۶۰۴) اور ذہبی نے صحیح کہا ہے۔)
٭:نماز استسقاء اس وقت پڑھی جاتی ہے جب قحط سالی ہو مینہ نہ برسے تو اللہ تعالی سے بارش طلب کرنے کے لیے یہ نماز (جس کا خاص طریقہ ہے ) پڑھی جاتی ہے۔
نماز اشراق:
وہ نماز جو طلوع آفتاب کے بعد ادا کی جاتی ہے اور یہی اس کا وقت ہے ۔
نماز چاشت:
اس وقت یہ نماز پڑھی جائے جب شدتِ گرمی کی وجہ سے اونٹنی کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔ (مسلم:۷۴۸)
یاد رہے نماز چاشت اور نما ز اوابین ایک ہی ہیں۔
نمازوتر:
رات کے تمام حصوں میں نماز وتر پڑھنی مسنون ہے، اسی کا آخری وقت سحری تک ہے۔ (بخاری:۹۹۶،مسلم:۷۴۵)
اس کا وقت نماز عشاء اور طلوع فجر کے درمیان ہے۔ (ابوداؤد:۱۴۱۸، صححہ الالبانی ،الصحیحہ:۱۰۸)
امام ابن المنذر فرماتے ہیں کہ:
''اجماع ہے کہ عشاء اور طلوع فجر کے درمیان کا سارا وقت وتر کا وقت ہے۔'' (کتاب الاجماع:رقم۷۶)
رات کی آخری نماز وتر ہونی چاہیے۔ (بخاری:۹۹۸،مسلم:۷۵۱)