الصفحة 130 من 228

لوگوں میں اللہ تعالی کے زیادہ قریب وہ ہیں جو سلام میں پہل کرتے ہیں۔ (أبو داود: ۵۱۹۷، ترمذی: ۲۶۹۴، صحیح)

جب کوئی اپنے بھائی سے ملے تو اس کے سلام کہے اگر ان کے درمیان کوئی درخت یا دیوار حائل یا پتھر ہو جائے،پھر اسے ملے تو سلام کہے۔ (أبو داود:۵۶۰۰،صحیح)

جب کوئی مجلس میں پہنچے تو سلا م کہے اور جب اٹھ کر جانے لگے تب سلام کہے۔ (أبو داود:۵۲۰۸، ترمذی:۲۷۰۶، حسن)

بچو ں کے پاس سے گزرتے وقت انھیں سلام کہنا مسنون ہے۔ (بخاری:۶۲۴۷،مسلم:۲۱۶۸)

عورت مردوں کوسلام کہہ سکتی ہے۔ (مسلم:۳۳۶)

اور عورت مردوں کو کہہ سکتے ہیں۔ (أبو داود:۵۲۰۴، ترمذی:۲۶۹۷، حسن)

یہود و نصاری کو سلام میں پہل کرنی حرام ہے۔ (مسلم:۲۱۶۷)

اگر ایسی مجلس ہے کہ وہاں مسلمان ،مشرک بت پرست اور یہود ملے جلے ہیں تو انھیں سلام کہہ دینا درست ہے۔ (بخاری: ۶۲۵۴، مسلم: ۱۷۹۸)

سلام ان الفاظ سے کہنا چاہیے:السلام علیکم۔ (بخاری:۶۲۲۷، مسلم:۲۸۴۱)

السلام علیکم کہنے سے دس نیکیاں السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہنے سے بیس نیکیاں اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہنے سے تیس نیکیاں ملتی ہیں۔

(أبو داود: ۵۱۹۵، ترمذی: ۲۶۸۹، حسن)

یا سلام علیکم کہے۔ (انعام:۵۴)

اکیلے کو سلام علیک کہنا۔ (مریم:۴۷)

یا اگر کچھ لوگ سو رہے ہیں اور کچھ جاگ رہیں تو اس طرح سلام کہنا چاہیے کہ جاگنے والے سن لیں اور سونے والے بیدار نہ ہوں۔ (مسلم:۲۰۵۵)

سوارپیادہ چلنے والے کو سلام کہے اور چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے لوگ زیادہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت