الصفحة 160 من 228

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مونچھیں اتنی کاٹتے کہ ان کی ( سفید) جلد نظر آتی تھی۔

( صحیح البخاری قبل ح۵۸۸۸ تعلیقًا ، رواہ الأثرم کما في تغلیق التعلیق ۵/۷۲ وسندہ حسن ، الطحاوي في معانی الآثار ۴/ ۲۳۱ وسندہ صحیح)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بعض اوقات اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے تھے۔

( دیکھئے:کتاب العلل و معرفۃ الرجال للامام احمد ۱/۲۶۱ ح۱۵۰۷ وسندہ صحیح)

امام مالک کی بھی باریک سروں والی لمبی مونچھیں تھیں۔ ( حوالہ مذکورہ:۱۵۰۷وسندہ صحیح)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی لمبی مونچھوں کو مسواک سے کاٹا ( یا کٹوایا ) تھا۔ (دیکھئے: سنن أبي داود: ۱۸۸ وسندہ صحیح)

امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے ( ایک دفعہ) اپنی مونچھوں کو اُسترے سے منڈوایا تھا۔

(دیکھئے: التاریخ الکبیر لابن أبي خیثمہ(ص ۱۶۰ ح ۳۱۱ وسندہ صحیح)

معلوم ہوا کہ مونچھیں کاٹنا اور منڈانا دونوں طرح جائز ہیں تاہم بہتر یہی ہے کہ مونچھیں استرے کے بجائے قینچی سے کاٹی جائیں۔

٭: مونچھوں کو کٹوانا افضل ہے اور منڈوانا بھی جائز ہے تفصیل کے لیے دیکھیں ۔ (زادالمعاد:۱/۱۷۸-۱۸۲)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت