الصفحة 161 من 228

بغلوں کے بالوں کے احکام

بغلوں کے بالوں کو نوچنا بھی فطرت سے ہے ۔ (صحیح مسلم:۲۶۱)

جو شخص بغلوں کے بال اکھاڑنے پر قادرنہ ہو تو وہ انھیں مونڈ سکتا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے

{ فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ} [التغابن: ۱۶]

''اللہ سے ڈروجتنی طاقت رکھتے ہو۔''

(نیز دیکھئے: کتاب الترجل: ص۱۵۰، والمجموع:۱/۲۸۸)

بغلوں کے بالوں کو نوچنے میں چالیس دن سے تاخیر نہ کرے۔

(صحیح مسلم:۱/۱۲۹ح۲۵۸)

زیر ناف بالوں کے احکام:

زیرناف بالوں کو مونڈنا فطرت سے ہے۔ (صحیح مسلم:۲۶)

زیر ناف بالوں کو مونڈھنے میں چالیس دن سے تاخیرنہ کرے۔ (صحیح مسلم:۱/۱۲۹ح۲۵۸)

٭: فوت شدہ کے زیر ناف بالوں کو مونڈھنا بھی درست ہے اور نہ مونڈھنا بھی دونوں طرح کے آثار سلف صالحین سے مروی ہیں۔

(مصنف ابن أبي شیبہ ح:۱۰۹۴۵، ۱۰۹۵۴، ۱۰۹۴۷، الأوسط: ۵/۳۲۸،۳۲۹ مسائل أحمد لأبي داود:ص۱۴۱)

لیکن بہتر یہی ہے کہ یہ بال نہ مونڈے جائیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت