الصفحة 186 من 228

حج یا عمرہ اور چہرے کے احکام

تلبیہ قبلہ رخ ہو کر کہنا: (دیکھئے صحیح بخاری: ۱۵۵۳)

صفا اورمروہ پرچڑھ کر جہاں سے بیت اللہ نظر آئے تو اس کی طرف اپنا چہرہ کر کے یہ دعا کرنی چاہئے۔

لاإلٰہ إلااللّٰه وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ، ولہ الحمد، وھوعلٰی کل شئ قدیر، لا إلٰہ إلا اللّٰه وحدہ، أنجز وعدہ، ونصر عبدہ ، وھزم الأحزاب وحدہ ۔ (صحیح مسلم: ۱۲۱۸)

جمرۂ اولیٰ کو کنکریاں مار کر چند قدم اس سے آگے بڑھ کر قبلہ رخ ہو کر دعا کرنا ۔ (صحیح بخاری: ۱۷۵۳)

چہرے پر مارنے کی ممانعت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '' إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَّقِ الْوَجْهَ ''

''جب تم میں سے کوئی کسی کو مارے تو چہرے پر نہ مارے ۔''

( سنن ابی داود: ۴۴۹۳ وسندہ حسن لذاتہ وللحدیث شواہد عند احمد ۲/ ۴۳۴ح ۹۶۰۴ وغیرہ)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إذا قاتل أحدکم فلیجتنب الوجہ۔

''جب تم میں سے کوئی جھگڑا کرے تو اس کے چہرے ( پر مارنے سے) پرہیز کرے۔''

( صحیح بخاری:۲۵۵۹وصحیح مسلم: ۲۶۱۲ وفی روایۃ عندہ: إذا ضرب أحدکم)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت