الصفحة 64 من 228

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إذا رأیتم ھلال ذی الحجۃ وأراد أحدکم أن یضحي فلیمسک عن شعرہ وأظفارہ۔ (صحیح مسلم: ۱۹۷۷)

''جب ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو اور تمھارا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اپنے بالوں اور ناخنوں (کوکاٹنے اور تراشنے ) سے بچو۔''

فرضی روزہ کی نیت رات کو کرنا ضروری ہے:

ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

'' لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ '' جو شخص فجر سے پہلے نیت نہ کرے ،اس کا روزہ نہیں ہے۔ ( سنن النسائی ۴-۱۹۷ح ۲۳۳۸ وسندہ صحیح)

نفلی روزوں کی دن کو بھی نیت کر سکتے ہیں ۔ دیکھیں: صحیح البخاری ( ۱۹۲۴)

فرضی روزہ کی روزانہ رات کو نیت کرنی چاہئے:

اوپر والی حدیث بھی اس پر صادق آتی ہے اور امام ابن المنذر النیشاپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

'' اجماع ہے کہ جس نے رمضان کی ہررات روزہ کی نیت کی اور روزہ رکھا، اس کا روزہ مکمل ہے۔'' ( کتاب الاجماع ص ۳۸ مترجم ) نیز دیکھئے: صحیح ابن خزیمہ (۳/۲۱۲) [1]

تنبیہ: ''وبصوم غد نویت من شھر رمضان '' کے مروجہ الفاظ سے روزہ کی نیت کرنا حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔ [2]

٭: نیت دل کا فعل ہے نہ کہ زبان کا ۔مزید تحقیق کے لئے دیکھئے ہمارا رسالہ ''نیت کے احکام'' [3]

[2] ان مسائل کی تفصیل شروع میں گزر چکی ہے۔الحسینوی.

[3] ان مسائل کی تفصیل شروع میں گزر چکی ہے۔الحسینوی.

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت