1۔ دل سے نیت کرنا:
سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ ) ) [1]
''عملوں کی قبولیت کادارومدار نیتوں پر ہے۔''
نوٹ:… نیت قصد اور ارادے کو کہتے ہیں جوکہ دل کی کیفیت ہے لہٰذا نیت کامحل دل ہے۔ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا درست نہیں۔ [2]
2۔ بسم اللہ پڑھنا:
جیساکہ سیّدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( لَا صَلٰوۃَ لِمَنْ لاَّ وُضُوْئَ لَہٗ وَلَا وُضُوْئَ لِمَنْ لَّمْ یَذْکُرِاسْمَاللّٰہِ ) ) [3]
''جس کا وضوء نہیں ا سکی نماز نہیں اور جس نے بسم اللہ نہیں پڑھی اس کا وضوء نہیں۔''
3۔مسواک کرنا:
سیّدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( لَوْلَاأَنْ أَشُقَّ عَلٰی أُمَّتِیْ لَأَمَرْتُہُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ
[2] فتح الباری: 1/16،17۔
[3] سنن أبوداؤد:کتاب الطہارۃ / باب فی التسمیۃ علی الوضوء:حدیث نمبر: 101، و سنن ابن ماجہ: کتاب الطہارۃ وسننہا / باب ما جاء فی التسمیۃ علی الوضوئ:حدیث نمبر: 399، و صحیح الجامع:حدیث نمبر: 7514۔