(( وَإِذَا جَلَسَ فِی الرَّکْعَۃِ الآخِرَۃِ قَدَّمَ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی وَنَصَبَ الْأُخْریٰ وَقَعَدَ عَلَی مَقْعَدَتِہٖ۔ ) ) [1]
''جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری رکعت کے بعد تشہدبیٹھتے تواپنے بائیں پاؤں کو آگے کرتے اور دوسرے کوکھڑا کر دیتے اور اپنی سرین پر بیٹھ جاتے۔''
دوسرا طریقہ: دونوں پاؤں دائیں طرف نکال کربائیں سیرین پر بیٹھ جانا:
2۔ سیّدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
(( فَإِذَا کَانَتِ الرَّابِعَۃُ أَفْضٰی بِوَرِکِہِ الْیُسْریٰ إِلَی الْأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَیْہِ مِنْ نَّاحِیَۃٍ وَاحِدَۃٍ۔ ) ) [2]
''جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چوتھی رکعت میں ہوتے تو بائیں ران کوزمین کے ساتھ لگاتے اور اپنے دونوں قدموں کوایک ہی (دائیں) جانب سے نکال لیتے۔''
تیسرا طریقہ: بائیں پاؤں کو پنڈلی اور ران کے درمیان رکھنا اور دائیں پاؤں کو بچھانا:
3۔ جیساکہ سیّدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
(( کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم إِذَا قَعَدَ فِی الصَّلٰوۃِ جَعَلَ قَدَمَہُ الْیُسْریٰ بَیْنَ فَخِذِہٖ وَسَاقِہٖ وَفَرَشَ قَدَمَہُ الْیُمْنٰی۔ ) ) [3]
''رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری تشہد میںبیٹھتے تواپنے بائیں قدم کو اپنی ران اور پنڈلی کے درمیان رکھتے اور دائیں قدم کو بچھا دیتے۔''
پہلی دعا: سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
(( کُنَّا إِذَاصَلَّیْنَا خَلْفَ النَّبِیِّ صلي اللّٰه عليه وسلم قُلْنَا السَّلَامُ عَلَی جِبَْرئِیْلَ
[2] سنن أبوداؤد:کتاب الصلوۃ باب من ذکر التورک فی الرابعۃ:965وابن حبان: 1867۔
[3] صحیح مسلم: کتاب المساجد باب صفۃ الجلوس فی الصلوۃ…: 1307۔