فهرس الكتاب

الصفحة 27 من 94

غسل اور اس کا طریقہ

1۔غسل کا لغوی معنی:

1۔''الْغُسْلُ'' یہ ''غَسَلَ یَغْسِلُ ''سے مصدر ہے جس کا مطلب ہے دھونا ، چنانچہ (1) ''غَسلُ الْأَعْضَائِ'' اعضاء کو اچھی طرح دھونے کو کہتے ہیں ، اور (2) ''اغْتَسَلَ بِالْمَائِ'' وہ پانی کے ساتھ نہایا اوراس نے غسل کیا، اور (3) ''غَسْلُ الشَّیْئِ'' پانی سے میل کچیل کو دور کرنا ، اور (5) ''الْغَسَّالَۃُ '' کپڑے دھونے والی مشین کو کہتے ہیں، اور (6) ''الْغَسَّالُ '' دھوبی کو کہا جاتا ہے۔

2۔غسل کا اصطلاحی معنی:

جَرْیَانُ الْمَائِ عَلَی الْأَعْضَائِ بِالدَّلْکِ …اعضاء جسم پر پانی بہانا اورنظافت کے لیے انھیں ملنا۔

3۔غسل کا طریقہ:

1…بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت دعا پڑھنا:

سیّدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

(( کَانَ النَّبِی صلي اللّٰه عليه وسلم إِذَ دَخَلَ الْخَلَائَ قَالَ: اللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مَِن الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ ) )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو کہتے:

(( اللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ۔ ) ) [1]

''اے اللہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے ۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت