کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صفیں بناتے ہیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پہلی صفیں مکمل کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔''
سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔ ) ) [1]
''عملوں کی قبولیت کادارومدار نیتوں پر ہے۔''
نوٹ:نیت قصد اور ارادے کو کہتے ہیںجوکہ دل کی کیفیت ہے اس لیے نیت کامحل دل ہے۔ [2]
5۔ تکبیر (اَللّٰہُ أَکْبَرُ ) کہنا
1۔ جیساکہ سیّدنا ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلٰوۃِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوْئَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ فَکَبِّرْ۔ ) ) [3]
''جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو پہلے مکمل وضوء کر پھر قبلہ رخ ہو کر اللہ اکبر کہہ۔''
2۔ اورسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:
(( کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَسْتَفْتِحُ الصَّلٰوۃَ بِالتَّکْبِیْرِ۔ ) ) [4]
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو اللہ اکبر کہہ کر شروع کرتے تھے۔''
[2] فتح الباری: 1/16،17۔
[3] صحیح البخاری:کتاب الأذان باب أمر النبی صلي الله عليه وسلم الذی لا یتم رکوعہ بالإعادۃ:حدیث نمبر: 793 وصحیح مسلم: باب وجوب قرائۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃ وانہ اذا لم یحسن… حدیث نمبر:886 واللفظ لہ۔
[4] صحیح مسلم: کتاب الصلوۃ باب ما یجمع صفۃ الصلاۃ وما یفتتح بہ ویختم بہ:حدیث نمبر: 1110۔