فهرس الكتاب

الصفحة 133 من 575

(( تَرَکْتُ فِیْکُمْ أَمْرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِھِمَا: کِتَابُ اللّٰہِ وَسُنَّۃُ نَبِیِّہٖ ) )

[میں نے تمھارے اندر دو چیزیں چھوڑی ہیں۔ جب تک تم لوگ ان کو پکڑے رہو گے، ہر گز گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور اس کے نبیصلی اللہ علیہ وسلم کی سنت]

اس کو موطا میں روایت کیا ہے۔ [1]

یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ عدمِ ضلال قرآن وحدیث کے ساتھ تمسک پر معلق ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دو چیزیں امت کے واسطے قیامت تک چھوڑی ہیں۔ جس نے ان کو نہ لیا، وہ گمراہ ہوا۔ یہ حدیث ردِ قیاس وغیرہ کے واسطے حجت ہے۔

ترکِ سنت کا انجام:

27۔حدیثِ غضیف ثمالی رضی اللہ عنہ میں مرفوعًا آیا ہے کہ کسی امت نے کوئی بدعت نہیں نکالی لیکن اس کے مثل ایک سنت اٹھ گئی۔ اس کو احمد نے روایت کیا ہے۔ [2]

معلوم ہوا کہ ہر بدعت رافعِ سنت ہوتی ہے، خواہ عقائد میں ہو یا اعمال میں۔ مثلًا جب سے تقلید کی بدعت نکلی ہے، کتاب و حدیث سے تمسک کی سنت مرفوع ہو گئی ہے۔ وعلی ھذا القیاس۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مرفوعًا کہا ہے کہ میری امت بہشت میں جائے گی مگر وہ شخص جن نے انکار کیا۔ پوچھا گیا: کس نے انکار کیا؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی وہ منکر ہوا۔'' اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔ [3]

اس جگہ نا فرمانی سے مراد سنن پر بدعت کو اختیار کرنا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہلِ بدعت جنت میں نہیں جائیں گے۔

28۔انس رضی اللہ عنہ کا مرفوع لفظ یہ ہے:

(( فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَیْسَ مِنِّيْ ) ) [4] (متفق علیہ)

[2] مسند أحمد، رقم الحدیث (۱۶۳۵۶) اس میں ''ابو بکر بن عبد اللہ بن ابی مریم'' راوی ضعیف ہونے کی وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے۔

[3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۲۸۰)

[4] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۰۶۳) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۴۰۱)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت