فهرس الكتاب

الصفحة 65 من 575

ترکاری ضرور ہو اور اس میں مِسّی [چنے کا آٹا ملی ہوئی روٹی] اور منہدی ہو اور اسے لونڈی نہ کھائے اور نہ وہ عورت ہی کھائے جس نے دوسرا خاوند کیا ہو۔

اسی طرح شاہ عبدالحق کا توشہ حلوا ہوتا ہے، حقہ نوش وہ نہ کھائے۔ شاہ مدار کی نیاز مالیدہ ہے، بو علی قلندر کی سہ منی اور اصحابِ کہف کی گوشت روٹی ہے۔ شادی بیاہ میں فلاں رسمیں نا گزیر اور ضروری ہیں، شوہر کی موت کے بعد وہ خود شادی کرے نہ کسی کی شادی میں بیٹھے اور نہ اچار ڈالے، فلاں آدمی نیلا کپڑا پہنے نہ رنگین دھاری دار کپڑا پہنے۔ یہ سب جھوٹی باتیں ہیں، لوگ ان کے ذریعے شرک میں گرفتار ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی حکومت کی شان میں دخل اندازی کرتے ہیں اور اپنی الگ ہی شریعت نکالتے ہیں۔

ستاروں کی تاثیر کا عقیدہ کفر اور شرک ہے:

جو شخص کائنات کے نظام کا چلنا ستاروں کی تاثیر سے سمجھے، وہ اللہ کا منکر ہے اور ستارہ پرستوں میں شامل ہے۔

شیخین نے زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے جو مرفوعًا حدیث نقل کی ہے: (( مُطِرْنَا بِنَوْئِ کَذَا وَکَذَا ) ) [1] [ہمیں فلاں فلاں ستارے سے بارش پلائی گئی] وہ اس بات کی دلیل ہے کہ نیک و بد گھڑی کا ماننا، اچھی بری تاریخ کا پوچھنا اور نجومی کے کہے پر یقین کرنا، یہ تمام شرکیہ چیزیں ہیں۔

علم نجوم سیکھنا حرام اور نجومی کی باتوں کی تصدیق کرنا کفر ہے:

نجوم کا ماننا ستارہ پرستوں کا کام ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے علمِ نجوم سیکھا، اس نے جادو کے علم کی ایک شاخ کا علم حاصل کیا۔''

(رواہ رزین) [2]

حفصہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعًا مروی ہے کہ جو شخص کسی عراف کے پاس آیا اور اس سے کچھ دریافت کیا تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ (أخرجہ مسلم) [3]

''عراف'' وہ شخص ہے جو غیب کی باتیں بتائے۔ اس میں نجومی، رمال، جفار، فال دیکھنے

[2] سنن أبي داوٗد، رقم الحدیث (۳۹۰۵)

[3] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۳۹۰۷)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت