فهرس الكتاب

الصفحة 372 من 575

نیز سنن ترمذی میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت مروی ہے:

''کوئی بندہ جب اخلاص سے ''لا إلٰہ إلا اللّٰہ '' کہتا ہے تو اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ جاتا ہے، جب تک بندہ کبیرہ گناہوں سے بچتا رہتا ہے۔'' [1]

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مرفوع حدیث میں آیاہے:

''کوئی چیز ایسی نہیں ہے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان حجاب نہ ہو سوائے ''لا إلٰہ إلا اللّٰہ '' کے۔ جس طرح تمھارے دونوں ہونٹ اس کے آگے رکاوٹ نہیں ہوتے، اسی طرح اللہ تعالیٰ تک پہنچنے میں اس کے لیے کوئی چیز حجاب نہیں ہوتی ہے۔'' [2]

کلمہ توحید نظرِ الٰہی اور قبولیتِ دعا کا مستوجب ہے:

کلمہ توحید کے فضائل میں یہ بھی ہے کہ اس کے کہنے والے کی طرف اللہ دیکھتا ہے اور اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔

امام نسائی رحمہ اللہ نے ''عمل الیوم واللیلۃ'' میں دو صحابیوں سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''جس نے ''لا إلٰہ إلا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وھو علی کل شییٔ قدیر'' [ایک اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے ساری تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت والا ہے] کو روح کے اخلاص اور زبان کی تصدیق سے کہا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسمان کو پھاڑ دیتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے کہنے والے کی طرف نظر فرماتا ہے اور جس بندے کی طرف اللہ نظر فرمائے، اس کا حق یہ ہے کہ اللہ اس کا سوال پورا کرے۔'' [3]

[2] أمالي ابن سمعون (۱۷۲) اللآلي المصنوعۃ (۲/۳۴۵) اس کی سند میں ''عثمان بن عطاؤ'' راوی ضعیف ہے۔ نیز عطا خراسانی کا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع و لقابھی نہیں، لہٰذا یہ حدیث ضعیف ہے۔

[3] عمل الیوم واللیلۃ للنسائي (۲۸) الترغیب والترھیب للمنذري (۲/۴۱۸)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت