فهرس الكتاب

الصفحة 200 من 575

{فَلاَ تُزَکُّوْٓا اَنْفُسَکُمْ} [النجم: ۳۲] یعنی تم اپنے آپ کو اچھا نہ کہو۔ بڑائی نہ کرو، بے عیب ذات اللہ کی ہے، ورنہ ہر آدمی میں کچھ نہ کچھ تھوڑا بہت عیب لگا ہوا ہے۔

1۔حدیثِ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میں مرفوعًا آیا ہے:

(( مَنْ بَطَّأَ بِہٖ عَمَلُہُ لَمْ یُسْرِعْ بِہٖ نَسَبُہٗ ) ) [1] (رواہ مسلم)

[جس کا عمل اسے پیچھے کر دے گا اس کا نسب اسے آگے نہ کرے گا]

یعنی دنیا وآخرت میں عمل کام آتا ہے، ذات کام نہیں آتی ہے۔

2۔حدیثِ ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ میں فخر بالاحساب اور طعن فی الانساب کو امرِ جاہلیت فرمایا ہے۔ [2] اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ یعنی یہ کفر کی عادت ہے۔

3۔حدیثِ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میں فرمایا ہے:

(( فَخِیَارُکُمْ فِيْ الْجَاھِلِیَّۃِ خِیَارُکُمْ فِيْ الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُھُوْا ) ) [3]

یعنی تم میں سے جو لوگ جاہلیت میں اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھی حالت میں ہیں جب وہ دینی مسائل سے واقف ہو جائیں۔ اس کو شیخین نے روایت کیا ہے۔

4۔عیاض مجاشعی رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا مروی ہے کہ اللہ نے مجھے وحی کی ہے کہ تم خاکساری اور عاجزی کرو، یہاں تک کہ کوئی شخص کسی شخص پر فخر نہ کرے اور کوئی کسی پر بڑائی نہ کرے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [4]

یعنی جب سب کی اصل مٹی ٹھہرے تو اب بعض کا بعض پر فخر کرنا کیا ہے؟ جتنی خاکساری ہو وہی بہتر ہے۔

دیکھا تو خاکساری عالی مقام ہے

جوں جوں بلند ہم ہوئے پستی نظر پڑی

5۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا مروی ہے کہ لوگوں کو چاہیے کہ اپنے مرے ہوئے باپ دادوں پر فخر

[2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۹۳۴)

[3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۵۳) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۵۲۶)

[4] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۸۶۵)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت