کی جناب میں مقدمہ پیش کرتے ہیں اور اسی کے سامنے یہ بحث ہوگی۔'' [1]
نحن و إیاھم نموت و لا
أفلح یوم الحساب من ندما
[ہمیں اور انھیں موت کی آغوش میں جاناہے، لیکن قیامت کے روز جو ذلت وندامت سے دو چار ہوا، وہ کامیاب نہیں ہوگا]
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{ وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ} [الشعرآئ: ۲۲۷]
[ظلم کرنے والوں کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کہاں لوٹ کر جاتے ہیں ؟]
یعنی ان کا انجام کیا ہونے والا ہے ؟