فهرس الكتاب

الصفحة 421 من 575

کے سوا کسی اور کی غیب دانی کا صاف انکار فرمایا گیا ہے، ایک وقتِ قیامت، دوسری وقتِ باراں، تیسری وہ چیز جو ماں کے پیٹ میں ہے، چوتھی حال فردا، پانچویں جائے موت ہے۔ ان پانچوں کا علم اللہ کے لیے خاص ہے، ان میں سے کسی چیز کے بارے میں کسی مخلوق کو قطعی علم نہیں ہو سکتا۔

فقہا نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ انبیا و اولیا کی بابت علمِ غیب کا اعتقاد رکھنا کفر ہے، لہٰذا جو کوئی یہ کہے کہ ارواحِ مشائخ حاضر ہیں اور علم رکھتی ہیں، وہ کافر ہو جاتا ہے۔ [1] حدیثِ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا میں یہ بات مذکور ہے کہ چند چھوکریاں گیت گا رہی تھیں تو ان میں سے ایک چھوکری نے اپنے گیت میں کہا:

و فینا نبي یعلم ما في غد

[ہم میں ایسا نبی ہے جو کل کی بات جانتا ہے]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھڑک دیا اور یہ بات کہنے سے منع کیا۔ [2]

اس سے معلوم ہوا کہ کسی نبی، ولی، امام، شہید، پیر، استاد، کاہن، ساحر، نجومی اور جوتشی وغیرہ سے متعلق یہ عقیدہ رکھنا جائز نہیں ہے کہ وہ غیب کی بات جانتا ہے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں بھی یہ اعتقاد رکھنا درست نہیں ہے، بلکہ آپ کی تعریف میں بھی ایسی بات نہیں کہنی چاہیے۔ نعتیہ کلام کے متعلق شعرا کا یہ عذر پیش کرنا کہ شعر میں مبالغہ ہوتا ہے، غلط بات ہے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعر مذکور میں اپنے علمِ غیب کے ذکر ہی پر منع و توبیخ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایک بچی کو ایسی

[2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۰۰۱، ۵۱۴۷)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت