فهرس الكتاب

الصفحة 474 من 575

غایت درجہ تکبر کرنا ہے۔

6۔شرک میں بڑی خرابی یہ ہے کہ مخلوق کی خالق کے ساتھ خصائصِ الوہیت میں تشبیہ ہوتی ہے، جیسے ملکیت ومالکیت، نفع وضرر، عطا ومنع، دعا، خوف ورجا اور توکل وغیرہ انواعِ عبادات، جس نے ان میں سے کوئی کام کسی مخلوق کے ساتھ کیا تو اس نے اس مخلوق کو خالق کے مشابہ ٹھہرایا اور جس کو اپنے نفع وضرر اور موت و حیات کا کوئی اختیار نہ تھا، اس کو مالکِ خلق و امر کے مثل کر دیا، عیاذًا باللّٰہ۔

اس آیت میں فرقہ خوارج پر رد ہے جو گناہ گار کی تکفیر کرتے ہیں اور معتزلہ پر بھی رد ہے جو صاحبِ کبیرہ کو مخلد فی النار بتاتے اور کہتے ہیں کہ کبائر کا مرتکب مومن ہے نہ کافر، بلکہ بین بین ہے۔ [1] ان دونوں آیاتِ شرک کی تفسیر ہم نے ''دین خالص'' میں مفصل طور پر لکھی ہے۔ [2]

[2] الدین الخالص (۱/۲۴۶۔ ۲۸۰)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت