فهرس الكتاب

الصفحة 531 من 575

ایک ایسی شے ہے جس میں کوئی اشتراک نہیں ہے، اس میں کوئی کافر و مشرک شریک نہیں ہوتا ہے، اسی لیے اہلِ توحید کے سوا کوئی بشر بھی اخلاصِ توحید اور اتباع کے ساتھ متصف نہیں ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

{اِِنَّآ اَخْلَصْنٰھُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرٰی الدَّارِ} [ص: ۴۶]

[ہم نے ان کو خالص آخرت کی یاد کے لیے چن لیا]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خطاب ہے:

{لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ} [آل عمران: ۲۲۸] [تمھیں کام میں کوئی دخل نہیں]

اس میں خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اختیار وتصرف کی نفی فرمائی گئی ہے، تو پھر اولیا کو کہاں سے تصرف و اختیار حاصل ہوا؟

جب یہ آیت نازل ہوئی تھی: {وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ} [الشعراء: ۲۱۴] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک سے کہا تھا:

(( لَا أُغْنِيْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ) ) [1] [میں تمھارے کسی کام نہیں آسکتا]

مطلب یہ کہ اللہ کے عذاب سے ایمانِ خالص، توحیدِ کامل اور عملِ صالح کے سوا کوئی کسی کو نجات نہیں دے سکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت