فهرس الكتاب

الصفحة 103 من 609

مذہب سلف کا ہے اور یہی حق، سچ اور راجح ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا معلوم ہے، اس کی کیفیت مجہول ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے۔

دوسرا قول تاویل ہے۔ یہ طریقہ خلف کا ہے، جس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ تاویل تکذیب کی ایک شاخ اور فرع ہے۔ ایک جماعت نے اللہ تعالیٰ کے قرب و معیت کی تاویل علم، قدرت اور احاطے کے ساتھ کی ہے۔ سو یہ آیات متشابہ ہیں، ان میں غور و خوض کرنا بے سود ہے، جب کہ آیاتِ استوا محکمات ہیں۔ لہٰذا ایک مومن کے لائق یہ ہے کہ وہ سب صفاتِ الٰہیہ پر ایمان لائے اور ان کی کیفیت میں غور وفکر کرنے سے احتراز کرے اور سلف کے منہج سے تجاوز کرنے کو جائز نہ سمجھے۔

عہدِ میثاق:

کتاب و سنت سے عہدِ میثاق ثابت ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

{ وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ} [الأعراف: ۱۷۲]

[اور جب تیرے رب نے آدم کے بیٹوں سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا]

اور مصابیح میں موجود حدیث میں بھی ہے۔ [1] مگر معتزلہ نے اس آیت وحدیث کو مجازی معنی پر

مزید برآں ائمہ سلف سے صفاتِ باری تعالیٰ کے معانی سے متعلق صریح نصوص وارد ہوئی ہیں، جیسے استوا کا معنی ارتفاع اور علو ثابت ہے، لیکن ان کی کیفیت کا علم نہیں۔ اہلِ سنت اگرچہ صفاتِ باری تعالیٰ کا اثبات کرتے ہیں، لیکن وہ تشبیہ کا کلیتًا انکار کرتے ہیں، کیونکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: {لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَھُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُ} [الشوریٰ: ۱۱] اس آیت کریمہ میں جہاں تشبیہ و تمثیل کی نفی کی گئی ہے، وہاں اﷲ تعالیٰ کے لیے صفاتِ سمع و بصر کا اثبات بھی کیا گیا ہے، جس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ صفات کے اثبات سے تشبیہ اور تمثیل لازم نہیں آتی۔

الغرض اول الذکر معنی کے اعتبار سے تفویض کو ائمہ سلف کا عقیدہ قرار دینا درست نہیں، البتہ ثانی الذکر معنی کے اعتبار سے عقیدہ سلف پر تفویض کا اطلاق درست ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ ایسے مشتبہ الفاظ کے استعمال سے گریز کیا جائے۔

مسند أحمد (۱/ ۲۷۲) مشکاۃ المصابیح (۱/ ۲۶)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت