دنیا میں نہیں آسمانوں کے اوپر ہوئی تھی۔ [1]
محققین کے نزدیک معدوم کوئی چیز نہیں ہے اور شے سے مراد امرِ ثابت و متحقق ہے۔ رہی یہ بات کہ معدوم کا نام شے نہیں ہے، یہ ایک لغوی بحث ہے۔
دنیا میں رویتِ باری تعالیٰ ممکن نہیں:
اہلِ سنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رویت عینِ بصر کے ساتھ دنیاو آخرت میں عقلًا جائز ہے اور عقبیٰ میں سمعًا ونقلًا ثابت ہے، لیکن دنیا میں کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو اس آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ہے، ہاں خواب میں کیفیت کے بغیر دیکھنا ممکن ہے اور یہ ایک طرح کا دلی مشاہدہ ہے۔
روح:
روح محدث ہے اور یہ بات دینِ اسلام میں ضرورتًا معلوم ہے۔ سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام اسی کے قائل تھے۔ اہلِ علم نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ جسم اور بدن مر جاتا ہے، مگر روح نہیں مرتی اور اس کو جسدِ خاکی سے جدا ہونے کے بعد نعمتیں ملتی ہیں یا عذاب ہوتا ہے۔