فهرس الكتاب

الصفحة 130 من 609

پہلی فصل:

اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کے قرآنی دلائل

پہلی آیت:

{ اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ} [الأعراف: ۵۴]

[بے شک تمھارا رب اللہ ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو چھے دن میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا]

دوسری آیت:

{ اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ} [یونس: ۳]

[بے شک تمھارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھے دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا]

موضح القرآن میں ہے کہ اس ملک کا دربار عرش پر ٹھہرا اور تمام کاموں کی تدبیر وہیں سے ہوتی ہے۔ انتہیٰ۔

تیسری آیت:

{ اَللّٰہُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ}

[الرعد: ۲]

[اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ستونوں کے، جنھیں تم دیکھتے ہو، پھر وہ عرش پر بلند ہوا]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت