اور ہر طرح کے مزے اور ہر طرح کی بو، تویہ عالَم قابل فنا ہے، کل شی ھالک إلا وجھہ۔
2۔اس عالم کا محدِث وموجد اللہ تعالیٰ ہے، اس کی ذات واحد، قدیم، حی، قادر، علیم،سمیع، بصیر، شائی اور مرید ہے۔ وہ عرض، جسم، جوہر، مصور، محدود، معدود، مبتعض، متجزی، ان دونوں سے مترکب، متناہی، موصوف بمائیت وکیفیت اور کسی مکان کے اندر متمکن نہیں ہے۔ اس پر کوئی زمانہ جاری ہوتا ہے اور نہ کوئی چیز اس کے مشابہ ہے۔ [1] کوئی چیز اس کے علم وقدرت سے باہر نہیں ہے۔
3۔اللہ تعالیٰ کی ازلی صفات اللہ کی ذات کے ساتھ قائم ہیں، نہ وہ عین ہیں اور نہ غیر۔ [2] وہ صفات درج ذیل ہیں: 1۔علم 2۔حیات 3۔سمع 4۔بصر 5۔ارادہ 6۔مشیت 7۔فعل 8۔تخلیق 9۔ترزیق 10۔کلام۔
4۔اللہ کا کلام اللہ کی ازلی صفت ہے جو حرف وصوت کی جنس سے نہیں ہے۔ [3] یہ صفت سکوت وآفت کے منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ متکلم، آمر، ناہی اور مخبر ہے۔ قرآن مجید اس کا غیر مخلوق کلام ہے، جو مصاحف میں لکھا ہوا ہے، دلوں میں محفوظ ہے، زبان پر پڑھا جاتا ہے اور کانوں سے سنا جاتا ہے، لیکن اس نے ان سب میں حلول نہیں کیا ہے۔
5۔تکوین اللہ تعالیٰ کی ایک ازلی صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جہان کو اس کے تمام اجزا کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ تکوین ازل میں تھی اور مکون اپنے وقت پر حادث ہوا۔ یہ تکوین ہمارے [ماتریدیہ کے]
[2] ہمیں ایسے مسائل میں خوض وبحث کرنے کی قطعًا کوئی ضرورت نہیں، کیوں کہ سلف صالحین نے جس بات سے تعرض نہیں کیا، اس میں خوض کرنے کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ انسان حق کو ناحق یا باطل کو حق سمجھ بیٹھے اور اپنا ہی نقصان کر لے۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنی صفات سے متعلق سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ [مولف رحمہ اللہ ]
[3] متعدد مرتبہ گزر چکا ہے کہ باری تعالیٰ کے کلام سے حرف و صوت کی نفی کرنا کتاب و سنت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ پر قول، کلمہ، کلمات، حدیث، حرف اور صوت کا اطلاق قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اللہ اور اس کا رسول جس لفظ و عبارت کا اطلاق و تلفظ کریں، کسی بشر کو اس کے انکار کا حق نہیں پہنچتا، کیونکہ ایسا انکار کتاب و سنت کے انکار کے مترادف ہے۔ [مولف رحمہ اللہ ]