فهرس الكتاب

الصفحة 572 من 609

میں کہتا ہوں: اسی طرح وہ اشعار جو ان اشعار کی مثل ہوں جیسے کسی شاعر کا قول ہے:

دل از عشق محمد ریش دارم

رقابت با خداے خویش دارم

[میرا دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں زخمی ہے، اور میں اپنے خدا کے ساتھ رقابت رکھتا ہوں]

یا عرفی شیرازی کا یہ قول ہے:

تا مجمع امکان و وجوبت ننوشتند

مورد متعین نشد اطلاق اعم را

[جب تک وہ امکان و وجوب کی مطابقت کو نہ لکھتے تو اطلاق اعم کا مورد متعین نہ ہوتا]

یا جیسے قصیدہ بردہ کا یہ شعر ہے:

یا أکرم الخلق ما لي من ألوذ بہ

سواک عند حدوث الحادث العمم

[اے ساری مخلوق میں سے سب سے زیادہ عزت والے! عام حوادث کے وقت تیرے سوا میرا کوئی نہیں ہے جس کی میں پناہ حاصل کر سکوں]

یا یہ مصرع ہے: ''ومن علومک علم اللوح والقلم'' [لوح وقلم کا علم تیرے علم سے ہے] یا میر آزاد کا یہ شعر ہے:

ما کان یعرف ألواحا ولا قلما

وکان یعرف ما في اللوح والقلم

[وہ الواح وقلم کو تو نہیں پہچانتا تھا، البتہ وہ لوح وقلم میں جو کچھ ہے اسے جانتا تھا]

اگرچہ اس مصرع یا شعر میں تاویل کی گنجایش ہے۔ یاجیسے جامی رحمہ اللہ کا یہ شعر ہے:

بقلم گر نرسید انگشتش

بود لوح وقلم اندر مشتش

[اگرچہ قلم تک اس کی انگلی نہ پہنچی، لیکن لوح وقلم اس کی مٹھی میں ہیں]

یا جیسے درود کے بعض وہ الفاظ جو ''دلائل الخیرات'' میں ہیں، کیونکہ یہ معانی شرع میں نہیں آئے اور نہ شرع نے ان مبانی کی اجازت دی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت