فهرس الكتاب

الصفحة 123 من 279

مجموعی طور پر قرآن کریم کی لائی ہوئی شریعت (اس کی تعلیمات) کا دار ومدارتین مصلحتوں پرہے:

پہلی مصلحت:چھ چیزوں سے فساد و برائی کو دور کرنا ( [1] ) :یعنی دین' جان' عقل' نسب'عزت و آبرو اور مال کی حفاظت کرنا۔

دوسری مصلحت:اچھائیوں اور بھلائیوں کا حصول ( [2] ) :چنانچہ قرآن کریم نے ہر میدان میں بھلائیوں کے حصول کے دریچے کھولے ہیں اور ضرر رسانی کے ہرچور دروازہ کو بند کیا ہے۔

تیسری مصلحت:عمدہ اور اچھے اخلاق و عادات کا چلن:چنانچہ قرآن کریم نے تمام عالمی مشکلات کاایسا اطمینان بخش حل پیش کیا ' جس سے انسانیت عاجز و درماندہ ہے اور دنیا و آخرت میں نوع انسانی کو مطلوب ہرہرگوشہ میں مناسب قوانین وضع کئے اور نہایت سیدھے اور معتدل طریقہ سے اس کی رہنمائی فرمائی۔ [3]

[2] یہ چیز اصولیوں کے یہاں حاجیات کے نام سے معروف ہے' دیکھئے: اضواء البیان ۳/۴۴۸۔

[3] دیکھئے: اضواء البیان ۳/۴۰۹تا ۴۵۷' اس پہلو کو علامہ موصوف نے عقلی و نقلی دلائل سے واضح کیا ہے' جزاہ اللہ خیرا و غفر لہ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت