قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کرکے نماز پڑھو۔
اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر بیان فر مادیا ہے کہ قبریں نماز کی جگہ نہیں ہیں،نیز یہ کہ جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے گا اور آپ کو سلام عرض کرے گاوہ آپ تک پہنچ جائے گا،خواہ وہ آپ کی قبر سے دور ہو یا نزدیک،لہٰذا آپ کی قبر کو میلہ گاہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں،ارشاد ہے:
(( لا تجعلوا بیوتکم قبورًا ولا تجعلوا قبري عیدًا،وصلوا علي فإن صلاتکم تبلغني حیث کنتم ) ) [1]
اپنے گھروں کوقبرستان نہ بناؤ،اور میری قبر کو میلہ گاہ نہ بناؤ،مجھ پر درود پڑھا کروکیونکہ تمہارا درود مجھ تک پہنچ جائے گا تم جہاں کہیں بھی ہو۔
نیز ارشاد ہے:
(( إن للّٰہ ملائکۃ سیاحین یبلغون من أمتي السلام ) ) [2]
بے شک اللہ کے کچھ فرشتے زمین میں گشت کرتے رہتے ہیں،جو
[2] نسائی،ابواب السھو،باب السلام علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم،۳/۴۳،و احمد،۱/۴۵۲،و فضل الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم لاسماعیل القاضی،حدیث نمبر ( ۲۱) ،ص:۲۴،اور اس کی سند صحیح ہے۔