یہ اللہ کی نافرمانی میں احبار و رہبان یعنی اپنے علماء اورعبادت گذارو ں وغیرہ کی اطاعت کرناہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{اتَّخَذُوْا أَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ أَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَمَا أُمِرُوْا إِلَّا لِیَعْبُدُوْا إِلٰہًا وَّاحِدًا لَا إِلٰہَ إِلَّا ھُوَ سُبْحَانَہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ} [1]
ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو اپنا رب بنالیا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو،حالانکہ انہیں صرف ایک تنہا اللہ کی عبادت کا حکم دیا گیا تھاجس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں،وہ ان کے شرک سے منزہ اورپاک ہے۔
۴- محبت کا شرک:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ أَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَھُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ} [2]
[2] سورۃ البقرۃ: ۱۶۵۔